پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے تیز گیند باز اور ایک روزہ ٹیم کے قائد شاہین شاہ آفریدی کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے انہیں ٹیسٹ کرکٹ کے منصوبوں سے الگ رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کی جانب سے لاہور میں منعقد کیے جانے والے تربیتی کیمپ کے لیے منتخب کھلاڑیوں کی فہرست میں شاہین کا نام صرف محدود اوورز کی کرکٹ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے جبکہ سرخ گیند کے کھلاڑیوں کے کیمپ کے لیے انہیں زیر غور نہیں لایا گیا۔
بورڈ نے مجموعی طور پر انچاس کھلاڑیوں کو مختلف کیمپوں کے لیے طلب کیا ہے۔ ان میں بائیس کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ جبکہ ستائیس کھلاڑیوں کو ایک روزہ اور بیس اوورز کی کرکٹ کی تیاریوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئندہ غیر ملکی دورے کی تیاری کے سلسلے میں بھی سرخ گیند کے ممکنہ کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
شاہین شاہ آفریدی نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز دو ہزار سترہ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا اور اب تک چونتیس ٹیسٹ مقابلوں میں ایک سو چھبیس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان کی کارکردگی اور خاص طور پر طویل دورانیے کی کرکٹ میں ردھم پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی ان کی رفتار اور اثر انگیزی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ٹیم انتظامیہ نے دوسرے ٹیسٹ میں انہیں آرام دے کر دیگر گیند بازوں کو موقع دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کے فیصلہ ساز حلقوں کو اس بات پر بھی تحفظات ہیں کہ شاہین باقاعدگی سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت نہیں کر رہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چار روزہ کرکٹ سے دوری کے باعث طویل فارمیٹ میں مطلوبہ تسلسل اور فٹنس برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں بورڈ نے مستقبل کی ٹیسٹ منصوبہ بندی میں نوجوان اور مستقل طور پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ شاہین کی توجہ محدود اوورز کی کرکٹ پر مرکوز رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔