گھروں کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی

گھروں کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے 5 اور 10 مرلہ کے گھروں کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ عوامی ریلیف اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ پر مبنی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 مرلہ تک کے گھر خریدنے یا فروخت کرنے والے افراد پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا گیا ہے تاکہ ہاؤسنگ شعبے کو مزید فعال بنایا جا سکے اور عام شہریوں کو گھر کے حصول میں سہولت ملے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ شعبے سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں، اس لیے اس شعبے کو ریلیف دینے سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا،انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے رہائشی شعبے کی ترقی کے لیے ’’وزیراعظم اپنا گھر اسکیم‘‘ کے تحت اب تک 90 ارب روپے جاری کیے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو اپنی چھت میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں :اپنا گھر اسکیم، مزید سہولیات،وزیر اعظم کی درخواست فارم سے متعلق نئی ہدایات

انہوں نے کہا کہ برآمدات کے شعبے کو بھی سہولت فراہم کرتے ہوئے تمام برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، برآمد کنندگان زیادہ منافع کمائیں گے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی، انہوں نے بجٹ کو مثبت، عوام دوست اور خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

سیاسی اور معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ایک وقت میں معاشی طور پر انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا تھا اور ملک ڈیفالٹ کے خطرے کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم حکومت کی مربوط حکمت عملی اور مسلسل کوششوں سے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اور فیلڈ مارشل کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ملک ترقی اور خوشحالی کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس پروگرام کے بجٹ پر سوالات اٹھائے گئے، حالانکہ اس پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد خاندانوں، بالخصوص خواتین، کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے طبقے کی مدد حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

editor

Related Articles