پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر نے ملک بھر میں مال برداری کے کرایوں میں 15 فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جسے کاروباری طبقے اور عام صارفین کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل کیے جائیں گے تاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات میں بھی کمی آسکے۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وزیراعظم کے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ برادری حکومتی اقدام کو سراہتی ہے اور اسی تناظر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری طور پر 15 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو کچھ ریلیف ملا ہے جس کا فائدہ صارفین اور کاروباری شعبے تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے ماضی میں مشکل معاشی حالات اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے باوجود قومی مفاد میں گاڑیاں چلائیں اور کئی مواقع پر اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کیا۔
ملک شہزاد اعوان نے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے کو مزید سہارا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں استحکام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیائے خورونوش سمیت مختلف مصنوعات کی ترسیل کی لاگت بھی کم ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد بعض ٹیکسوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹول ٹیکس، ای چالان، موٹروے پولیس کے جرمانوں اور دیگر مالی بوجھ میں بھی مناسب ریلیف فراہم کریں۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ شعبہ ہر سال اربوں روپے کے ٹیکس ادا کرتا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کو بہتر سہولیات، انفراسٹرکچر اور مالی مراعات بھی فراہم کرے تاکہ شعبہ مزید مؤثر انداز میں خدمات انجام دے سکے۔