خیبرپختونخوا حکومت نے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈومیسائل جاری کرنے کے نظام میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، نئی پالیسی کے تحت اب کئی درخواست گزاروں کو ڈومیسائل حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جبکہ بعض کیسز میں دستاویز ایک ہی دن میں جاری کیا جا سکے گا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور شہریوں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے، اسی مقصد کے لیے بزنس پروسس ری انجینئرنگ (بی پی آر) ماڈل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے پورے نظام کو مرحلہ وار ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق ایسے درخواست گزار جن کا مستقل پتہ گزشتہ تین سال سے تبدیل نہیں ہوا، ان کے کیسز پر فوری کارروائی کی جائے گی، اگر نادرا سے معلومات کی تصدیق مکمل ہو جائے تو انہیں اسی روز ڈومیسائل جاری کیا جا سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں شہریوں کو فائدہ پہنچے گا اور غیر ضروری انتظار کی شکایات میں بھی نمایاں کمی آئے گی ، وہ افراد جنہوں نے گزشتہ ایک سے تین سال کے دوران اپنا مستقل پتہ تبدیل کیا ہے، ان کی درخواستوں کی جانچ زیادہ سے زیادہ تین دن میں مکمل کی جائے گی۔ تصدیقی عمل ختم ہونے کے بعد ڈومیسائل جاری کرنے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
دوسری جانب حالیہ عرصے میں پتہ تبدیل کرنے والے شہریوں کے کیسز ضلعی کمیٹی کے سپرد کیے جائیں گے، کمیٹی تمام ریکارڈ کا جائزہ لے کر دس دن کے اندر فیصلہ کرے گی تاکہ درست معلومات کی بنیاد پر ڈومیسائل جاری کیا جا سکے۔
حکومت نے ڈومیسائل سسٹم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسے مختلف سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، اس سلسلے میں سافٹ ویئر کو دستک ایپ اور نادرا کے سی آر وی ایس نظام سے جوڑا جائے گا۔
اس انضمام کے بعد مختلف اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ تیزی اور محفوظ انداز میں ممکن ہو سکے گا، جس سے درخواستوں کی جانچ اور منظوری کا عمل بھی بہتر ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت شہری نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ یا ای سہولت مراکز کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق بھی کرا سکیں گے، اس سہولت سے درخواست گزاروں کو دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
حکومت کو امید ہے کہ ان اصلاحات سے ڈومیسائل کے اجرا کا نظام زیادہ شفاف، تیز اور شہری دوست بنے گا، جبکہ عوام کو سرکاری خدمات کے حصول میں پہلے سے بہتر تجربہ حاصل ہوگا۔