سائنس دانوں نے ایک حیران کن راز دریافت کیا ہے کہ ہجرت کرنے والا رابن پرندہ رات کے اندھیرے میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر بغیر نقشے یا واضح نشانات کے کیسے مکمل کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ پرندہ زمین کے مقناطیسی میدان کو اپنی آنکھوں کے ذریعے محسوس کرتا ہے، اور اس عمل میں کوانٹم فزکس کا کردار شامل ہو سکتا ہے۔
رابن پرندے کی آنکھ کے ریٹینا میں ایک خاص روشنی حساس پروٹین موجود ہوتا ہے جسے کرپٹوکروم کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک قسم کرائے 4 اے نیلی روشنی پڑنے پر مخصوص کیمیائی عمل شروع کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دو مالیکیولز بنتے ہیں جن کے الیکٹرانز ایک حساس کوانٹم حالت میں آ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان ان الیکٹرانز کی کیفیت میں معمولی تبدیلی پیدا کرتا ہے، جس سے ممکنہ طور پر پرندے کی نظر میں ایک خاص پیٹرن بنتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، پرندہ شمال کی سمت کو صرف محسوس نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی نظر کے ذریعے دیکھ سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ رات کے وقت ہجرت کرنے والے رابن پرندوں سے حاصل کیے گئے کرائے4 اے پروٹین نے لیبارٹری میں مقناطیسی میدان کے لیے زیادہ حساسیت ظاہر کی، جبکہ ایسے پرندوں میں یہ اثر نمایاں نہیں تھا جو طویل فاصلے کی ہجرت نہیں کرتے۔
سائنس دانوں کے مطابق ہجرت کے موسم میں رابن پرندے اس پروٹین کی مقدار بھی بڑھا دیتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نظام ان کے سفر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ دریافت اس لیے بھی حیران کن ہے کہ کوانٹم پیمائش کے لیے عام طور پر انتہائی پیچیدہ اور کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا پرندہ اپنے جسم کے اندر قدرتی طور پر یہی عمل انجام دے رہا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرت نے جانوروں کو ایسی صلاحیتیں دی ہیں جنہیں انسان اب جدید سائنس کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رابن پرندے کی یہ صلاحیت اس بات کی ایک مثال ہے کہ قدرت کے اندر چھپے راز ابھی مکمل طور پر دریافت نہیں ہوئے۔