ورلڈ اسٹرونگ مین گیمز، نوح دستگیر بٹ نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا

ورلڈ اسٹرونگ مین گیمز، نوح دستگیر بٹ نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا

پاکستان کے مایہ ناز اور ہردل عزیز ویٹ لفٹر و اسٹرونگ مین ایتھلیٹ نوح دستگیر بٹ نے بین الاقوامی کھیل کے میدان میں ایک اور بہت بڑا اعزاز پاکستان کے نام کر دیا ہے۔

ازبکستان میں منعقد ہونے والی عالمی سمرس ’ورلڈ اسٹرونگ مین گیمز‘ میں نوح دستگیر بٹ نے دنیا بھر سے آئے ہوئے دیوقامت اور مایہ ناز پہلوانوں کو دھول چٹاتے ہوئے بیک وقت 2 گولڈ میڈل (طلائی تمغے) اپنے نام کر لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کامن ویلتھ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ، پاکستان کے نوح بٹ نے چاروں گولڈ میڈل جیت لیے

کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈلسٹ اور پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے نوح دستگیر بٹ کی اس شاندار اور تاریخی کامیابی کے بعد ازبکستان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا اور قومی ترانے کی گونج نے وہاں موجود شائقین کے دل جیت لیے۔

طاقت کے سب سے بڑے امتحان میں پاکستانی شیر کی دھاڑ

ورلڈ اسٹرونگ مین گیمز کو دنیا بھر میں انسانی طاقت اور برداشت کا سب سے بڑا اور مشکل ترین مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف ممالک کے پاور لفٹرز اور ویٹ لفٹرز بھاری بھرکم وزن اٹھانے، پتھروں کو منتقل کرنے اور گاڑیوں کو کھینچنے جیسے انتہائی کٹھن مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

نوح دستگیر بٹ نے ان تمام کڑے مقابلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی بے پناہ طاقت، تکنیک اور عزم کی بدولت مختلف کیٹیگریز میں 2 طلائی تمغے جیت کر ثابت کیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر گوجرانوالہ سمیت ملک بھر میں جشن کا سماں ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے تہنیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا ہے۔

گوجرانوالہ کا روایتی پہلوانی ورثہ اور نوح دستگیر کا سفر

پاکستان کا شہر گوجرانوالہ تاریخی طور پر ’پہلوانوں کا شہر‘ کہلاتا ہے، جس نے برصغیر پاک و ہند کو بڑے بڑے رستم اور مایہ ناز کھلاڑی دیے۔

نوح دستگیر بٹ اسی مٹی کے سپوت ہیں اور ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو نسل در نسل اس کھیل سے وابستہ رہا ہے۔ ان کے والد دستگیر بٹ بھی خود اپنے دور کے نامور ویٹ لفٹر رہ چکے ہیں اور انہوں نے ہی نوح کو بچپن سے تربیت دی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستانی باڈی بلڈر شہروز خان عالمی اسٹیج پرقومی پرچم بلند کرنے میں کامیاب، گولڈ میڈل جیت لیا

نوح دستگیر بٹ اس سے قبل برمنگھم میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں بھی پلس 109 کلو گرام کیٹیگری میں ریکارڈ وزن اٹھا کر پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کے دیگر ایتھلیٹس (جیسے ارشد ندیم) کی عالمی فتوحات کے بعد نوح دستگیر بٹ کی یہ کامیابی پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نئے سنہری دور کا آغاز ہے۔

پاکستان کے امیج کی بحالی

عالمی سطح پر جب پاکستان کا کوئی کھلاڑی میڈل جیتتا ہے، تو یہ ملک کے لیے اربوں ڈالرز کی پبلک ریلیشننگ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ نوح دستگیر کی یہ جیت دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان صرف روایتی کھیلوں تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر طاقت اور ایتھلیٹکس کے میدانوں میں بھی دنیا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

انفرادی کھیلوں کی فتوحات

کرکٹ کے برعکس، جہاں پوری ٹیم اور کروڑوں روپے کا بجٹ شامل ہوتا ہے، پاکستان میں ویٹ لفٹنگ، اسٹرونگ مین اور جیولن تھرو جیسے کھیلوں میں کھلاڑی اپنے مصلے اور ذاتی وسائل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

 نوح دستگیر بٹ کی یہ کامیابی ان کی ذاتی محنت، ان کے خاندان کی قربانیوں اور گوجرانوالہ کے اکھاڑوں کی مرہونِ منت ہے، جو سرکاری سرپرستی کے بغیر بھی انٹرنیشنل چیمپئنز پیدا کر رہے ہیں۔

نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل

نوح دستگیر بٹ کی یہ کامیابی پاکستان کے نوجوانوں، خاص طور پر ہائی اسکول اور کالج کے طلبہ کو فٹنس، باڈی بلڈنگ اور ہیلتھی لائف اسٹائل کی طرف راغب کرے گی، جو ملک میں کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

Related Articles