اس کے ساتھ ہی، موٹرویز پر چلنے والی مسافر بسوں، ویگنوں اور بھاری گاڑیوں کے لیے بھی پرانی حدِ رفتار یعنی 110 کلومیٹر فی گھنٹہ بحال کر دی گئی ہے۔
وزارتِ مواصلات کے مطابق، نہ صرف موٹرویز بلکہ قومی شاہراہوں (جی ٹی روڈ وغیرہ) پر بھی کاروں، ہلکی گاڑیوں، مسافر بسوں اور بھاری مال بردار گاڑیوں کے لیے سابقہ طے شدہ حدِ رفتار کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کا فوری ایکشن اور شہریوں سے اپیل
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق، حکومت کے اس فیصلے پر ملک بھر کے تمام موٹرویز اور شاہراہوں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اور اسپیڈ کیمروں کے نظام کو نئی (سابقہ) حدِ رفتار کے مطابق اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ’سفر میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی حفاظت بدستور ہماری اولین ترجیح ہے‘۔
انہوں نے تمام ڈرائیورز سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ حدِ رفتار سے تجاوز نہ کریں، ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں، دورانِ سفر سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی بنائیں اور اپنے و دوسروں کے محفوظ سفر کے لیے گاڑی کی رفتار پر قابو رکھیں۔
موٹروے اسپیڈ لمٹ تنازع اور سفری ضرورت
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران موٹروے پولیس اور انتظامیہ نے حادثات میں کمی لانے اور ایندھن کی بچت کے نام پر موٹرویز کے مختلف سیکشنز پر حدِ رفتار کو 120 کلومیٹر سے گھٹا کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر دیا تھا، جبکہ مسافر بسوں کے لیے بھی اسپیڈ لمٹ کم کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے باعث طویل مسافت کا سفر کرنے والے شہریوں، کاروباری طبقے اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، کیونکہ اس سے نہ صرف سفر کا دورانیہ بڑھ گیا تھا بلکہ جدید موٹرویز کا اصل مقصد (تیز رفتار اور محفوظ سفر) بھی متاثر ہو رہا تھا۔
عوامی مطالبات اور لاجسٹکس کی روانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، حکومت نے اب اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق پرانی اسپیڈ لمٹ کو دوبارہ لاگو کر دیا ہے۔
وقت کی بچت اور اقتصادی کارکردگی
لاہور تا اسلام آباد یا کراچی تا سکھر جیسے طویل موٹرویز پر کاروں کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بحال ہونے سے مسافروں کے قیمتی گھنٹوں کی بچت ہوگی۔
لاجسٹکس اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے مسافر اور بھاری گاڑیوں کی اسپیڈ 110 کلومیٹر ہونا مصنوعات کی ملک بھر میں بروقت ترسیل کو یقینی بنائے گا، جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جدید گاڑیوں اور سڑکوں کا توازن
پاکستان کے موٹرویز دنیا کے بہترین روڈ انفراسٹرکچر میں شمار ہوتے ہیں، جو سائنسی طور پر 120 کلومیٹر یا اس سے بھی زائد کی رفتار کو محفوظ طریقے سے برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
ان سڑکوں پر حدِ رفتار بہت زیادہ کم کر دینا عملی طور پر غیر منطقی تھا، کیونکہ جدید گاڑیاں کروز کنٹرول اور جدید بریکنگ سسٹم کے ساتھ اِسی رفتار پر بہترین فیول ایوریج اور توازن فراہم کرتی ہیں۔