قاہرہ میں چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امید ہے امریکا اور ایران جلد حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور اس پورے عمل میں سفارت کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
العربیہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سفارتی عمل سے متعلق اپنے دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کو مسلسل آگاہ رکھ رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا عدم اعتماد پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات میں زیر بحث آئے گا، جبکہ خطے میں استحکام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایران نے یورینیم افزودگی کی سطح میں کمی پر اتفاق کیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ 60 دن کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے تاہم امید ہے کہ امریکا اور ایران ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گےکسی بھی فریق کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سب کا مقصد خطے میں امن اور استحکام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس سفارتی عمل اور ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے اہم ممالک امن کے لیے ایک مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ ایران پر پابندیوں کا معاملہ بھی امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں تفصیل سے زیر غور آئے گا تاکہ ایک متوازن اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔