پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز تیسری اعلیٰ ترین درجہ بندی رکھنے والی یونیورسٹی بن گئی

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز تیسری اعلیٰ ترین درجہ بندی رکھنے والی یونیورسٹی بن گئی

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز( پیاس)جو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت ملک کا ایک ممتاز اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی ادارہ ہے، نے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

تازہ ترین کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز میں ادارے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی درجہ بندی میں 560ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

یہ پیش رفت ادارے کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ پیاس نے اپنی سابقہ درجہ بندی 721 سے 730 کے بینڈ سے نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے عالمی تعلیمی معیار میں اپنی مضبوط موجودگی ثابت کی ہے۔

اس بہتری کے بعد پیاس پاکستان کی تیسری اعلیٰ ترین درجہ بندی رکھنے والی یونیورسٹی بن گئی ہے جو ملک کے تعلیمی اور تحقیقی شعبے کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ادارے کی اس کامیابی کو اس کی مسلسل محنت، اعلیٰ معیار کی تعلیم، جدید تحقیق اور سائنسی جدت کے فروغ کے عزم کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستانی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں پہلی 4 سو میں سے کس پوزیشن پر موجود؟

پیاس ملک میں انجینئرنگ اور اپلائیڈ سائنسز کے شعبوں میں تحقیق و ترقی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں طلبہ کو جدید سائنسی تقاضوں کے مطابق تعلیم اور عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

ادارے نے حالیہ برسوں میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے، بین الاقوامی تعاون بڑھانے اور تعلیمی ماحول کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جس کے مثبت نتائج اب عالمی درجہ بندی میں سامنے آ رہے ہیں،کیو ایس رینکنگ میں اس طرح کی بہتری نہ صرف ادارے کی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔

editor

Related Articles