حکومت کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے سے صاف انکار

حکومت کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے سے صاف انکار

حکومتی ذرائع نے کالعدم ایکشن کمیٹی  (JAAC) کے رہنما شوکت نواز میر کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں حقیقت سے دور اور محض “خوش فہمی” قرار دے دیا ہے۔

شوکت نواز میر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ایک انڈرسٹینڈنگ (سمجھوتہ) طے پا گئی ہے جس کے تحت جے اے اے سی پر عائد پابندی ختم کر دی جائے گی اور مطالبات کے چارٹر پر دوبارہ بات چیت شروع ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں حال ہی میں کچھ سیاستدانوں کی تقاریر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ فرضی کہانی گھڑی گئی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

حکومت کی جانب سے واضح اور دوٹوک موقف سامنے لایا گیا ہے جس میں قانون کی مکمل پاسداری کا یقین دلایا گیا ہے ،  سیکیورٹی اہلکاروں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے تمام مجرموں کے ساتھ قانون کی پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

ریاست مخالف تقاریر پر سزا : ریاست کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو بڑا جھٹکا ، برطانیہ کے اہم سربراہ راشوجٹ نے اپنی راہیں جدا کرلیں

حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بلیک میلنگ یا کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا بلیک میلنگ کے آگے ریاست ہرگز نہیں جھکے گی۔

 موجودہ صورتحال میں جے اے اے سی  پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ پابندی برقرار رہے گی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ واحد راستہ انتخابات ، آگے بڑھنے کا واحد راستہ جمہوری عمل ہے اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

 حکومتی پالیسی واضح ہے کہ تشدد، بلیک میلنگ اور لانگ مارچ کے ذریعے ریاست کو ڈرایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی مقصد حاصل ہوگا ، اس معاملے پر ریاست کی جانب سے کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

editor

Related Articles