راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پر حملے، آتشزدگی اور بعد ازاں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے پس منظر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض شخصیات کا کردار زیرِ تفتیش ہے، تاہم ان الزامات کی تاحال آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان سردار عمر نذیر کشمیری، سردار امان، خواجہ مہران اور شوکت نواز نے مبینہ طور پر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نوجوانوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکسایا، جس کے نتیجے میں علاقے کا امن متاثر ہوا۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ سی ایم ایچ پر مبینہ حملے سے قبل بھی اسی گروہ سے وابستہ افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے، بعض اہلکاروں کو اغوا کیا اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عثمان صابر کی ہلاکت کے حوالے سے بھی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اس واقعے کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر گمراہ کن بیانیہ اختیار کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس واقعے کے ذمہ دار نہیں، بلکہ مسلح افراد، جنہیں ذرائع نے کالعدم کمیٹی سے منسلک قرار دیا، تصادم سے قبل عمارتوں کی چھتوں پر موجود تھے اور انہوں نے شہریوں پر فائرنگ کی۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان الزامات کے حق میں گواہ اور شواہد موجود ہیں، تاہم ان کی کوئی تفصیلات یا قابلِ تصدیق ثبوت جاری نہیں کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد مبینہ طور پر ذمہ دار عناصر قانونی کارروائی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ عوام کی جانب سے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔