2028 میں لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی تاریخی واپسی کے لیے ٹیموں کی کوالیفکیشن کا طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے۔ 1900 کے پیرس اولمپکس کے بعد پہلی بار کرکٹ کو اولمپک گیمز کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جہاں مینز اور ویمنز مقابلے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔
آئی سی سی کے اعلان کے مطابق مینز اور ویمنز ایونٹس میں 6، 6 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ایشیا، افریقہ، یورپ اور اوشیانا سے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں سرفہرست ٹیمیں براہ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کریں گی جبکہ میزبان امریکا ٹاپ 15 رینکنگ میں شامل ہونے کی صورت میں جگہ حاصل کرے گا۔ چھٹی ٹیم کا فیصلہ 2027 میں ہونے والے آئی سی سی اولمپک کوالیفائر کے ذریعے کیا جائے گا جس میں آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔
پاکستان کی مینز ٹیم کے لیے اولمپکس تک رسائی کا راستہ آسان نہیں۔ اگر 31 دسمبر 2026 تک پاکستان ایشیا کی نمبر ایک ٹی ٹوئنٹی ٹیم بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ براہ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔ بصورت دیگر قومی ٹیم کو 2027 کے آئی سی سی اولمپک کوالیفائر میں شرکت کرکے ٹورنامنٹ جیتنا ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان ویمنز ٹیم براہ راست کوالیفکیشن سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ آسٹریلیا، بھارت، برطانیہ اور جنوبی افریقہ پہلے ہی اپنی نشستیں یقینی بنا چکے ہیں۔ اب پاکستان ویمنز ٹیم کو پہلے 2027 کے اولمپک کوالیفائر کے لیے اہلیت حاصل کرنا ہوگی جس کے بعد کوالیفائر جیت کر ہی وہ لاس اینجلس اولمپکس میں جگہ بنا سکے گی۔
واضح رہے کہ اولمپکس میں شریک 6 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ ٹورنامنٹ کے اختتام پر گولڈ، سلور اور برانز میڈلز کے لیے مقابلے منعقد ہوں گے۔