گاڑی مالکان ہو جائیں خبردار ، آج سے نئے ٹوکن ٹیکس کا اطلاق

گاڑی مالکان ہو جائیں خبردار ، آج سے نئے ٹوکن ٹیکس کا اطلاق

وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس بل 2026 کے تحت منظور کی گئی ترامیم کے بعد ملک بھر میں گاڑیوں کے لیے نیا ٹوکن ٹیکس نظام آج یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

نئے نظام کے تحت اب متعدد گاڑیوں کا سالانہ ٹوکن ٹیکس صرف انجن کی گنجائش (سی سی) کی بنیاد پر نہیں بلکہ گاڑی کی انوائس ویلیو (Invoice Value) کے تناسب سے وصول کیا جائے گا جس سے مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

حکومت کے مطابق نئے ٹیکس نظام کا مقصد ٹوکن ٹیکس کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور جدید بنانا ہے تاکہ مہنگی گاڑیوں پر ان کی مالیت کے مطابق ٹیکس عائد کیا جا سکے جبکہ نسبتاً کم قیمت گاڑیوں کے مالکان پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔

نئے نظام کے مطابق 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان پہلے کی طرح سالانہ 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے اور اس کیٹیگری میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم 1001 سی سی سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر سالانہ ٹوکن ٹیکس گاڑی کی انوائس ویلیو کا 0.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ 2001 سی سی سے 2500 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے یہ شرح 0.35 فیصد رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان خبردار، آج سے بڑا کریک ڈاؤن شروع

مارکیٹ تخمینوں کے مطابق نئی شرح کے تحت ہیول جولیون (Haval Jolion) جس کی ایکس فیکٹری قیمت تقریباً 77 لاکھ 96 ہزار سے 91 لاکھ 16 ہزار روپے ہے اس پر سالانہ ٹوکن ٹیکس تقریباً 19 ہزار 490 روپے سے 22 ہزار 790 روپے ہوگا۔

اسی طرح ہیول H6 کے 1.5T، 2.0T اور ہائبرڈ ماڈلز جن کی قیمت تقریباً 89 لاکھ 23 ہزار سے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے ہے ان پر سالانہ ٹوکن ٹیکس 22 ہزار 308 روپے سے 28 ہزار 807 روپے تک متوقع ہے۔

جبکہ ہیول H6 پلگ اِن ہائبرڈ (PHEV) جس کی ایکس فیکٹری قیمت تقریباً ایک کروڑ 28 لاکھ روپے ہے اس پر 0.35 فیصد شرح کے مطابق سالانہ ٹوکن ٹیکس تقریباً 45 ہزار 132 روپے بنتا ہے۔

 نئے نظام سے مہنگی اور لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کا بوجھ ان کی مالیت کے مطابق ہوگا جبکہ متوسط درجے کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے بھی ٹیکس کا تعین زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں کیا جائے گا۔ حکومت کو اس فیصلے سے ریونیو میں اضافے کی بھی توقع ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور یکسانیت آئے گی۔

متعلقہ حکام نے گاڑی مالکان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سالانہ ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی سے قبل متعلقہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اتھارٹی یا آن لائن پورٹل سے اپنی گاڑی پر لاگو ہونے والی نئی شرح کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

editor

Related Articles