اسلام آباد میں او آئی سی کی وزارتی کانفرنس کا اعلان، 57 ممالک کے مندوب شریک ہوں گے!

اسلام آباد میں او آئی سی کی وزارتی کانفرنس کا اعلان، 57 ممالک کے مندوب شریک ہوں گے!

پاکستان نے مسلم امہ کی سطح پر خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی نویں تنظیم تعاون اسلامی ’او آئی سی‘ وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی کی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل کر دی ہیں۔

 نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے 6 ویں اجلاس میں 12 اور 13 جولائی کو ہونے والے اس عالمی ایونٹ کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:او آئی سی اجلاس میں نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی ترک صدر سے ملاقات

اس کانفرنس میں مسلم دنیا کے 57 ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا واضح ثبوت ہے۔

انتظامات کا حتمی جائزہ اور بین الوزارتی رابطہ کاری

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کانفرنس کے مسودۂ پروگرام، ایجنڈا، سیکیورٹی، لاجسٹک اور میڈیا حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وزارت انسانی حقوق اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام باقی ماندہ انتظامات کو مقررہ وقت پر اور اعلیٰ ترین معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ایونٹ کو عالمی سطح پر یادگار بنانے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔

اضافی معلومات اور کانفرنس کے اہم خدوخال

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس 2 روزہ کانفرنس کے دوران مسلم ممالک میں خواتین کو درپیش معاشی، تعلیمی اور سماجی چیلنجز پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ ’اسلام آباد اعلامیہ‘ جاری کیے جانے کا امکان ہے، جو مستقبل میں مسلم خواتین کی ترقی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گا۔

پاکستان اس پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل اکانومی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہا ہے، تاکہ مسلم دنیا کی خواتین جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

پاکستان اور او آئی سی کا پائیدار رشتہ

پاکستان ہمیشہ سے او آئی سی کا ایک فعال اور متحرک رکن رہا ہے۔ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق پر بحث تیز ہو چکی ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کی کامیاب میزبانی کی ہے، لیکن خواتین کے موضوع پر اتنی بڑی کانفرنس کی میزبانی کرنا پاکستان کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام کے اعتدال پسند اور ترقی پسند چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔

 یہ ایونٹ پاکستان کو مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کے علمبردار کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

سفارتی اور سماجی کامیابی کا پیش خیمہ

سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کانفرنس کا انعقاد موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں:او آئی سی کا اسرائیل کی جانب سے ’سومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کی مذمت، فلسطین پر قرارداد منظور

 57 ممالک کے نمائندوں کو ایک چھت تلے جمع کرنا پاکستان کے محفوظ اور مستحکم ہونے کا عالمی پیغام ہے۔

 اس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ مسلم ممالک کو روایتی جمود سے نکل کر خواتین کی معاشی خودمختاری پر بات کرنے کا موقع دے گی۔

 اگر پاکستان ’اسلام آباد اعلامیہ‘ کے ذریعے مسلم خواتین کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ اسحاق ڈار اور موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا ایک تاریخی کارنامہ تصور کیا جائے گا۔

Related Articles