شہید ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات، وزیراعظم شہبازشریف وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے

شہید ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات، وزیراعظم شہبازشریف وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے

وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے تہران پہنچ گئے ۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اعلی سطح وفد کے ہمراہ اپنے ایک روزہ دورہ ایران کیلئے تہران پہنچے ہیں۔

مہرآباد ایئرپورٹ پر ایران کے وزیرِ داخلہ، جناب اسکندر مومنی تہران میں پاکستان کے سفیر، عزت مآب عمران احمد صدیقی اور پاکستان و ایران کے اعلی سفارتی حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف تہران میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کے جنازے  میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کریں گے اور غم کی اس گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

اسپیکر نیشنل اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، نئیر بخاری، وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پارلیمینٹیرئینز وزیرِ اعظم کے ہمراہ آخری رسومات میں شرکت کریں گے ۔

یہ بھی پڑھیں :دورہ ایران، وزیراعظم شہباز شریف سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید کے جنازے میں شرکت کیلئے روانہ

تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای کو 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز ہی شہید کر دیا گیا تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی میت جمعے کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ پہنچا دی گئی، جہاں ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کی تیاریاں جاری ہیں۔

جنگ کے دوران مؤخر ہونے والی عوامی تدفین کی تقریب کی تیاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکہ، جنگ بندی کے ایک نازک مرحلے پر ہیں اور دونوں ممالک نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی اس جنازے میں شرکت متوقع ہے، جبکہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے بھی لوگ ایران پہنچ رہے ہیں۔

editor

Related Articles