لاہورمیں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی، 41 کروڑ تاوان اور کرپٹو تنازع کی حیران کن کہانی

لاہورمیں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی، 41 کروڑ تاوان اور کرپٹو تنازع کی حیران کن کہانی

پاکستان کے دل لاہور کے سب سے محفوظ اور پوش علاقے ڈیفنس سے ایک ایسا چشم کشا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے مقامی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے امیج کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

ہالینڈ اور وینزویلا سے پاکستان آنے والی دو غیر ملکی خواتین کا اغوا، ان کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی، اور پھر 15 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی روپوں میں تقریباً 41 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

یہ کہانی لاہور میں پیش آنے والے ایک سچے اور ہولناک واقعے کی ہے۔ لیکن کہانی صرف اتنی نہیں ہے, اس ہائی پروفائل کیس کے تار سنگاپور سے جڑتے ہیں، اس میں کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا تنازعہ بھی ہے، اور مبینہ طور پر پاکستان کی ایک انتہائی اہم سیاسی شخصیت کے ایک قریبی رشتہ دار کا نام بھی سامنے آ رہا ہے

یہ خواتین پاکستان کیوں آئیں؟ سنگاپور میں ان کی ملاقات کس سے ہوئی؟ اور ہالینڈ اور اسپین سے آنے والی ایک فون کال نے کیسے پنجاب حکومت اور لاہور پولیس میں ہلچل مچا دی؟

کہانی شروع ہوتی ہے اکتوبر 2025 میں، پاکستان سے ہزاروں میل دور سنگاپور میں۔ جہاں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جن کا نام اسٹیفنی ایڈریانا ہے، اپنے ایک دوست کے ساتھ موجود تھیں۔وہاں ان کی ملاقات لاہور کے ایک شخص سے ہوتی ہے جس کا نام ہے ‘محمد رضا ڈار’۔

یہ سارا معاملہ دراصل کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری یعنی انویسٹمنٹ کے وعدے سے شروع ہوا تھا ، علی رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں نے ان غیر ملکی خواتین کے ساتھ مل کر ڈالرز میں بڑی انویسٹمنٹ کی۔ طے یہ پایا تھا کہ اس کاروبار سے جو بھی منافع یا پرافٹ آئے گا، وہ آپس میں برابر تقسیم ہوگا۔

لیکن کہانی میں ٹوئسٹ وہاں آیا جب منافع ہوا، تو مبینہ طور پر ان خواتین نے رقم دینے سے انکار کر دیا اور علی رضا ڈار کی فون کالز اور میسجز کا جواب دینا بند کر دیا، محمد رضا ڈار پاکستان واپس آ چکا تھا لیکن وہ اپنے پیسے کسی صورت چھوڑنا پر راضی نہیں تھا ، اس نے ان خواتین کو مزید بزنس ڈیلز کا لالچ دیا، خود ان کے لیے ویزوں کا انتظام کیا اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی ،  پھر 29 جون 2026 کو یہ دونوں خواتین پاکستان پہنچ گئیں۔

پاکستان پہنچنے کے بعد ابتدائی دو تین دن سب کچھ بالکل نارمل رہا، یہ خواتین ملزمان کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں میں گھومتی رہیں ، انہوں نے امختلف شہروں کی سیر کی، لاہور کی سڑکوں پر گھومیں، مہنگے ریسٹورنٹس میں کھانا کھایا ، یہ خواتین اتنی بے فکر تھیں کہ اپنے سفر کی تصاویر اور ویڈیوز مسلسل اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی شیئر کرتی رہیں۔

ان خواتین کی واپسی کی ٹکٹ 3 جولائی کی تھی لہذا وہ فلائٹ پکڑنے واپس لاہور پہنچیں ، جیسے ہی وہ لاہور پہنچیں، علی رضا ڈار نے پلاننگ کے تحت، ڈیفنس کے علاقے میں ایک گھر کرائے پر لیا، کچھ لوگ ہائر کیے گئے، اور 29 جون کو ان دونوں خواتین کو علی رضا ڈار، اس کے باس اور دیگر تین ساتھیوں نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق، اغوا کاروں کا رویہ انتہائی جارحانہ اور خوفناک تھا ، حد تو یہ ہے کہ خواتین کو پاکستان بلانے والا علی رضا ڈار خود بھی اغوا ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا تاکہ لڑکیوں کو شک نہ ہو اور اسی اغوا کے دوران، ان خواتین کو خاموش رکھنے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا، اور ایک خاتون کا متعدد بار ریپ کیا گیا جبکہ دوسری کے ساتھ بھی زیادتی کی کوشش کی گئی ، ملزمان ان سے تاوان کا بھی مطالبہ کرتے رہے
۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور پولیس کو اس خوفناک واقعے کا علم کیسے ہوا؟ یہاں انٹری ہوتی ہے ہالینڈ اور اسپین کی حکومت اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت ، متاثرہ لڑکیوں میں سے ایک کا اسپین میں موجود اپنے والد سے رابطہ کرایا گیا، لڑکی نے بتایا کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے اور اغوا کار 15 لاکھ ڈالر تاوان مانگ رہے ہیں۔

لڑکی نے اپنے والد کو اس گاڑی کا نمبر بھی بتا دیا جس میں انہیں لے جایا جا رہا تھا ، لڑکی کے والد نے فوری طور پر اسپین سے پاکستان پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی!

جب ایسی کوئی انٹرنیشنل کال موصول ہوتی ہے، تو پاکستان کے سیکیورٹی اداروں میں ریڈ الرٹ جاری ہو جاتا ہے ، یہ اطلاع فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو دی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کو سیدھا حکم دیا کہ صرف دو گھنٹے کے اندر اندر ان غیر ملکی لڑکیوں کو بازیاب کروائیں اور ملزمان کو گرفتار کریں۔

لاہور پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے  لڑکیوں کے گھر والوں سے وہ تمام تصاویر منگوائی گئیں جو وہ سفر کے دوران بھیج رہی تھیں ، ان تصاویر میں اس گاڑی کی تصویر اور نمبر پلیٹ بھی شامل تھی، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے گاڑی کو ٹریس کیا گیا ، پتا چلا کہ گاڑی کب شاہدرہ سے گزری، کب سرگودھا گئی، کب اسلام آباد گئی اور کب لاہور واپس آئیں، ڈیجیٹل ٹریسنگ کرتے کرتے پولیس ڈیفنس سی کے ایک خفیہ ٹھکانے پر پہنچی، وہاں چھاپہ مارا اور دونوں خواتین کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

پولیس نے اب تک اس کیس میں مرکزی ملزم علی رضا ڈار سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ باقیوں کی تلاش جاری ہے۔ تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ نمبر 1560/26 درج کیا جا چکا ہے، جس میں اغوا برائے تاوان کی دفعہ 365-A اور اجتماعی زیادتی کی دفعہ 375-A جیسی سنگین دفعات شامل ہیں ، خواتین کا میڈیکل معائنہ کروا لیا گیا ہے اور پولیس انہیں عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کر رہی ہے۔

بڑی شخصیت کے ملوث ہونے کا الزام

اس کیس کا سب سے حساس پہلو وہ سیاسی تعلق ہے جس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ، ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم علی رضا ڈار پاکستان کی ایک بڑے عہدے پر موجود طاقتور شخصیت کے رشتہ دار ہیں، یہ شخصیت مسلم لیگ ن کے دیرینہ، سدا بہار اور اہم ترین رہنما بھی ہیں۔

اگرچہ حکومت یا مذکورہ سیاسی شخصیت کی طرف سے اس پر ابھی تک کوئی باقاعدہ تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن اتنی بڑی شخصیت کے رشتہ دار کا نام اتنے ہولناک جرم میں آنا ہمارے نظام کا کڑا امتحان ہے۔

ہمارے ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کو تمام سفری دستاویزات تیار کرنے کے بعد انکے ملک روانہ کردیا گیا ہے ، کیا پولیس کسی دباؤ کے بغیر انصاف کر پائے گی؟

بے شک کرپٹو کرنسی کے لین دین کا معاملہ ہو، خواتین نے آپ کے ساتھ فراڈ کیا ہو، یہ بالکل بھی کسی غیر ملکی مہمان کو اغوا، تشدد اور ریپ کا نشانہ بنانے کیلئے جواز فراہم نہیں کرتا۔ نہ ہی کسی کی دھوکے بازی یا فراڈ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتی ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ پولیس نے فوری کارروائی کی اور لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا، جنہیں اب ان کے سفارت خانوں کے ذریعے واپس بھیج دیا گیا لیکن اصل انصاف تب ہوگا جب ملزمان کو سزا ملے گی ۔

Related Articles