برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیراعظم مودی کے اعزازات کا پول کھول دیا

برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیراعظم مودی کے اعزازات کا پول کھول دیا

برطانوی اخبار دی گارڈین نے نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھا دیئے۔ رطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ جس کا عنوان ہے: ’’انہیں کوئی بھی اعزاز دے دو، وہ فوراً لینے پہنچ جائیں گے: نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں میں اعزازات کی بھرمار‘‘ میں نریندر مودی کو ملنے والے ایوارڈ ز پر سوالات اٹھائیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جب نریندر مودی بحرِ ہند میں واقع جزیرہ نما ملک سیشلز پہنچے تو وہاں کی حکومت نے انہیں اپنے مبینہ طور پر اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ’’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘‘ سے نوازا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمینی نے مودی کو ایک ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کے ساتھ یہ اعزاز پیش کیا، تاہم بعد ازاں مبصرین نے اس اعزاز سے متعلق کئی غیر معمولی باتوں کی نشاندہی کی۔

دی گارڈین کے مطابق سرٹیفکیٹ میں ’’جمہوریہ‘‘ کے انگریزی لفظ کی املا غلط لکھی گئی، جبکہ سیشلز کے نام کی املا میں بھی غلطی موجود تھی۔ مزید یہ کہ یہ اعزاز نریندر مودی کی آمد سے صرف تین روز قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا اور مودی اس کے پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پیٹرول کتنا سستا ہوگا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مودی اس اعزاز کے پہلے اور آخری وصول کنندہ ہیں، جبکہ انہیں دیا گیا سیشلز ایوارڈ ان کی آمد سے صرف تین روز قبل تیار کیا گیا تھا۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مودی کو سیشلز کا اعزاز ملنے کو فخر کا لمحہ قرار دیا۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں مودی کے غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سیشلز ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ پر ملک کے نام کی املا بھی غلط درج تھی، جبکہ اس کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال اور متعدد املا کی غلطیوں نے اس اعزاز کی ساکھ پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ رپورٹ کے بعد بھارتی اپوزیشن نے بھی مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کو سیشلز میں دیا جانے والا اعزاز ایک ’’من گھڑت پذیرائی‘‘ ہے، جبکہ برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھی مودی کے غیر ملکی دوروں پر ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :عالمی منڈی میں خام تیل 4 ماہ کی کم ترین سطح پر، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ شاید اب تک کی سب سے شرمناک کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو دیا جانے والا اعزاز ان کی آمد سے صرف چند روز قبل ہی تخلیق کیا گیا، اس کا سرٹیفکیٹ ایک سستے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل کے ذریعے تیار کیا گیا، جس میں واضح املا کی غلطیاں موجود تھیں، اور پھر مودی اس اعزاز کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بن گئے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس طرح تیار کیا گیا یہ اعزاز یا تو سستی شہرت حاصل کرنے کی بدترین کوشش ہے یا پھر خوشامد کی انتہائی گھٹیا شکل ہے۔ ان کے مطابق مودی بھارتی قوم کو شرمندہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے ملک کے لیے باعثِ شرمندگی بن چکے ہیں۔

Related Articles