وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھارت میں اعزازی اسناد اور بیرون ملک پذیرائی کے دعو ئوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی وقار کی سیاست اب سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے اور محض تشہیری مہمات سے حقائق کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک غیر ملکی دورے سے چند روز قبل نئے اعزازات کی تخلیق خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، جبکہ اعزازی اسناد میں املا کی غلطیوں کا سامنے آنا بھی متعلقہ اداروں کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ایک شخصیت کا کسی اعزاز کو حاصل کرنے والا پہلا اور واحد فرد قرار پانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تشخص بہتر بنانے کی کوششیں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی قبول نہیں کرے گا، عطا تارڑ
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارتی حکومت کئی برسوں سے بیرون ملک ملنے والے اعزازات کو عالمی پذیرائی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، حالانکہ نفرت پر مبنی پالیسیوں اور متنازع اقدامات کے باوجود ان اعزازات کی بھرپور تشہیر کی جاتی رہی ہے۔
This raises serious questions about the politics of manufactured prestige in India.
When foreign awards are created days before a visit, when certificates carry basic spelling errors, and when the recipient becomes the first and only awardee, the strategy of image management…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) July 4, 2026

