ایرانی ریال عالمی مالیاتی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد بدستور تاریخی کمزور ترین سطح کے قریب برقرار ہے، جس کے باعث ملکی معیشت اور بیرونی مالی لین دین پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے اور کھلی منڈی میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 17 لاکھ50 ہزار سے17 لاکھ 56 ہزار500 ریال کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی ہے یہ صورتحال اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ ایرانی کرنسی شدید دباؤ میں ہے اور اس کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیاں، بین الاقوامی مالی دباؤ، علاقائی سیاسی کشیدگی اور اندرونی معاشی مسائل ایرانی معیشت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ریال کی قدر میں عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے ان عوامل کے باعث کرنسی کی قیمت میں بعض اوقات روزانہ کی بنیاد پر نمایاں کمی بیشی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 4جولائی تک ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں مذکورہ شرح برقرار رہی جو ایرانی ریال کی کمزور ترین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے،ایران میں سرکاری زرِ مبادلہ کے مقابلے میں کھلی منڈی کی شرح کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین اسی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
پاکستانی کرنسی کے لحاظ سے بھی ایرانی ریال کی قدر انتہائی کم ہے، جہاں ایک ایرانی ریال کی مالیت پاکستانی روپے کے مقابلے میں نہایت معمولی سطح پر پہنچ چکی ہے اس صورتحال میں بعض سرمایہ کار اور تاجر مستقبل میں ممکنہ بہتری کی امید پر ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
کراچی اور لاہور جیسے بڑے تجارتی مراکز میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت8 ہزار تک پاکستانی روپے کے برابر بتائی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ موجود ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے جاری بین الاقوامی پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، مہنگائی کی بلند شرح، زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود رسائی اور اندرونی مالی مسائل نے ایرانی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے ان عوامل کے باعث کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔