ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نیا انتظام متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے، جس کے تحت چین اور دیگر دوست ممالک کو خصوصی سہولتیں فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے چین میں تعینات سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں منعقدہ ورلڈ پیس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر عمان کے تعاون سے کام جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک کو مزید منظم اور محفوظ بنانا ہے۔
نئے نظام کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم چین اور دیگر دوست ممالک کو اس میں ترجیحی بنیادوں پر مراعات دی جائیں گی۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ بحری گزرگاہ کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا، سیکیورٹی کو مضبوط کرنا اور خدمات کے معیار کو بڑھانا ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اور عمان اس منصوبے پر قریبی رابطے اور تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بحری تجارت کے بہاؤ کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
عبدالرضا رحمانی فضلی نے چین کو ایران کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق نئی پالیسی بھی اسی وسیع تر تعاون کا حصہ ہے۔