عالمی منڈی میں سونے کے قیمتوں میں مزید اضافہ، وجہ سامنے آگئی

عالمی منڈی میں سونے کے قیمتوں میں مزید اضافہ، وجہ سامنے آگئی

امریکا میں روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے پر عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,174.66 ڈالر فی اونس کی 2 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم ہو گئی، جبکہ ماہرین نے سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات کے باعث تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں قیمتوں میں مزید ریکارڈ اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

عالمی منڈی میں سونے کے قیمتوں میں مزید اضافہ، وجہ سامنے آگئی

امریکی لیبر مارکیٹ سے موصول ہونے والے غیر تسلی بخش اعداد و شمار نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جون کے مہینے میں امریکا میں ملازمتوں کی فراہمی کی رفتار نمایاں طور پر سست رہی، جبکہ گزشتہ 2 ماہ کے ڈیٹا میں بھی منفی ترمیم کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتیں دھڑام سے گر گئیں، ایک ہی دن میں فی تولہ ہزاروں روپے کی کمی

اس سست روی کے باعث سرمایہ کاروں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ اب کم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے مستقبل قریب میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات دم توڑ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی مانگ میں یکدم اضافہ کر دیا ہے۔

گولڈ فیوچرز میں 1.5 فیصد کا نمایاں اضافہ

عالمی صرافہ مارکیٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,174.66 ڈالر فی اونس پر مضبوطی سے برقرار ہے، جو کہ گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

دوسری جانب، فیوچر مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی کے باعث اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 1.5 فیصد کی زبردست برتری کے ساتھ 4,186.70 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو گیا ہے۔

سود کی شرح اور سونے کی کشش کا باہمی تعلق

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی یا اس کے بڑھنے کی رفتار سست ہوتی ہے، تو بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا نسبتاً زیادہ پرکشش سرمایہ کاری بن کر ابھرتا ہے۔

مزید پڑھیں:سونے کی قیمتیں زمین بوس ہوگئیں، ایک ہی دن میں سونا فی تولہ 10 ہزار سے زائد سستا

چونکہ سونے کی سرمایہ کاری پر براہِ راست کوئی فکسڈ سود یا منافع نہیں ملتا، اس لیے سود کی شرح زیادہ ہونے پر سرمایہ کار بانڈز کا رخ کرتے ہیں، لیکن شرح سود مستحکم یا کم ہونے کی صورت میں سونا سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بن جاتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے اجلاس کے منٹس پر نظریں

عالمی سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے 16 اور 17 جون کو ہونے والے اجلاس کے منٹس پر لگی ہوئی ہیں، جو بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔

ان منٹس سے امریکی مالیاتی پالیسی سازوں کے مستقبل کے ارادوں اور آئندہ مانیٹری پالیسی کی سمت کو سمجھنے میں اہم مدد ملے گی، جس کے بعد سونے کی قیمتوں کو نئی سمت ملنے کا امکان ہے۔

جے پی مورگن کی نئی پیش گوئی اور مستقبل کا منظرنامہ

عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے سونے کی مارکیٹ کے حوالے سے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کہا ہے کہ اگرچہ طلب توقعات سے کچھ کم رہ سکتی ہے، تاہم سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار رہے گا۔

جے پی مورگن کے مطابق جاری سال کی تیسری سہ ماہی میں سونے کی اوسط قیمت 4,300 ڈالر فی اونس جبکہ سال 2026 کی آخری سہ ماہی تک یہ قیمت 4,500 ڈالر فی اونس کی نئی تاریخی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی صورتحال

سونے کی مارکیٹ میں تیزی کے برعکس عالمی منڈی میں دیگر قیمتی دھاتوں کے خریداروں کا رجحان کچھ سرد رہا۔ کاروباری سیشن کے دوران چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم کی قیمتوں میں کسی بڑی پیش رفت کے بجائے معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اس وقت صرف سونے پر مرکوز ہے۔

عالمی مارکیٹ کا گہرا معاشی تجزیہ

امریکی روزگار کی رپورٹ میں کمزوری اور سونے کی قیمتوں میں استحکام محض ایک وقتی لہر نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی معیشت میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔

فیڈرل ریزرو نے طویل عرصے تک مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھا، جس سے اب امریکی لیبر مارکیٹ دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں:گولڈ مارکیٹ میں یوٹرن،سونے کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں،فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ

جے پی مورگن کی جانب سے سال کے آخر تک 4,500 ڈالر فی اونس کی پیش گوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے امریکی ڈالر کی قدر میں طویل مدتی کمی اور معاشی سست روی (کساد بازاری) کے خطرات کو بھانپ چکے ہیں۔

جب بھی بڑے معاشی بلاکس میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، تو مرکزی بینک اور نجی سرمایہ کار کاغذی کرنسیوں پر اعتماد کم کرتے ہوئے سونے کے ذخائر بڑھانا شروع کر دیتے ہیں، جو کہ موجودہ صورتحال میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Related Articles