پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں اگست 2026 میں 4 ٹیموں پر مشتمل لازمی ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث کیریبیئن پریمیئر لیگ سمیت دیگر غیر ملکی لیگز کے لیے قومی کرکٹرز کو این او سی جاری نہ کیے جانے کا قوی امکان ہے ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کھلاڑیوں کے بیرونی لیگز کھیلنے کے حوالے سے اپنی پالیسی سخت کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ کے معتبر ذرائع کے مطابق، اگست کے مہینے میں متعدد قومی کرکٹرز کے بیرونِ ملک ایکشن میں نظر آنے کے امکانات اب انتہائی کم ہو چکے ہیں۔
پی سی بی نے اس سال اگست میں ملک کے اندر ہی 4 بڑی ٹیموں کا ایک ہائی پروفائل ون ڈے ٹورنامنٹ منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے قومی اسکواڈ اور ڈومیسٹک کے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب پر کام تیزی سے جاری ہے۔
کیریبیئن پریمیئر لیگ اور این او سی کا تنازع
ویسٹ انڈیز میں شیڈول مقبول ترین کیریبیئن پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کا آغاز 7 اگست سے ہو رہا ہے جو 20 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی۔
پاکستان کے کئی صفِ اول اور ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹرز نے اس لیگ کے مختلف اسکواڈز میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے، تاہم وہاں ایکشن میں نظر آنے کے لیے ان کھلاڑیوں کو پی سی بی کی جانب سے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) کی اشد ضرورت ہے۔
بورڈ نے وائٹ بال کے تمام دستیاب کرکٹرز کو پہلے ہی باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ ان کے لیے اگست میں ہونے والے مقامی ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا لازمی ہوگا۔
معاذ صداقت سمیت اہم کھلاڑیوں کے این او سی منسوخ ہونے کا خدشہ
اس اچانک فیصلے کے بعد کھلاڑیوں کے معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ پی سی بی نے نوجوان آل راؤنڈر معاذ صداقت کو پہلے ہی غیر ملکی لیگ کے لیے این او سی جاری کر دیا تھا، لیکن اب ہوم ٹورنامنٹ کے انعقاد کے باعث ان کی شرکت کا امکان بھی ختم ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ سی پی ایل کے لیے منتخب ہونے والے دیگر کھلاڑیوں، جن میں صاحبزادہ فرحان، جارح مزاج اوپنر صائم ایوب، اسپنر سفیان مقیم، سعد مسعود، عثمان خان اور فاسٹ بولر سلمان ارشاد شامل ہیں، کو بھی اب پی سی بی کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کا واضح امکان ہے۔
میگا ایونٹ سے قبل مضبوط ون ڈے اسکواڈ کی تلاش
پی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ آئندہ انٹرنیشنل سیزن اور بالخصوص مستقبل کے ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کو زیادہ سے زیادہ ون ڈے میچز کھیلنے ہیں، اسی لیے قومی پول کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بورڈ اس میگا ایونٹ سے پہلے ون ڈے اسکواڈ کے لیے متبادل اور بیک اپ کے طور پر بہترین اور فارم میں موجود کھلاڑیوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے اور یہ 4 ٹیموں کا ٹورنامنٹ سلیکٹرز کو بہترین ٹیلنٹ پرکھنے کا سنہری موقع فراہم کرے گا۔
لیگز بمقابلہ قومی ذمہ داری
گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی کھلاڑیوں کی دنیا بھر کی ٹی 20 لیگز میں مسلسل شرکت اور اس کے نتیجے میں ان کی فٹنس اور قومی ٹیم کی کارکردگی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بعد پی سی بی پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔
ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ کھلاڑی بھاری معاوضوں کی خاطر ڈومیسٹک ون ڈے اور فرسٹ کلاس ٹورنامنٹس چھوڑ کر غیر ملکی لیگز کو ترجیح دیتے تھے، جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا بینچ اسٹرینتھ (بیک اپ کھلاڑی) کمزور ہو رہا تھا۔ اب بورڈ نے ورلڈ کپ کے وسیع تر تناظر میں ‘نیشنل فرسٹ’ کی پالیسی اپنائی ہے۔
پی سی بی کا اقدام کتنا فائدہ مند؟
پی سی بی کا یہ فیصلہ بظاہر سخت دکھائی دیتا ہے اور اس سے کھلاڑیوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا، لیکن پاکستان کرکٹ کے طویل مدتی مفاد میں یہ ایک انتہائی ناگزیر قدم ہے۔
حالیہ چند بڑی سیریز میں پاکستان کے مڈل آرڈر اور بولنگ کے شعبوں میں جو خامیاں سامنے آئی ہیں، انہیں دور کرنے کے لیے کھلاڑیوں کا ون ڈے فارمیٹ کھیلنا بہت ضروری ہے۔
صائم ایوب، عثمان خان اور سفیان مقیم جیسے نوجوانوں کو ٹی 20 لیگز کے چسکے سے نکال کر 50 اوورز کی کرکٹ میں ڈالنا ان کی بیٹنگ اور بولنگ کی تکنیک کو بہتر بنائے گا۔
اگر پاکستان کو اگلے آئی سی سی ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانی ہے، تو اس کے لیے ڈومیسٹک سطح پر اچھے کھلاڑیوں کی اسکریننگ اور طویل فارمیٹ کی کرکٹ کا تجربہ ہی کام آئے گا۔ پی سی بی کا یہ سخت فیصلہ ٹیم کی بنیاد مضبوط کرنے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔