جاپان میں ایک نایاب 400 سال پرانے بونسائی درخت کی چوری نے نہ صرف اس کے مالکان بلکہ دنیا بھر میں بونسائی سے محبت کرنے والوں کو بھی افسردہ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوکیو کے شمال میں واقع سائیتاما کے علاقے میں نامور بونسائی ماسٹر سیجی اییمورا اور ان کی اہلیہ فیومی اییمورا کے باغ میں چور گھس آئے اور سات قیمتی بونسائی درخت چرا لے گئے۔ ان میں ’’شمپاکو جونیپر‘‘ نسل کا 400 سال پرانا نایاب درخت بھی شامل تھا، جس کی کئی نسلوں سے دیکھ بھال کی جا رہی تھی۔
واقعے کے بعد فیومی اییمورا نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے چوروں سے درخت واپس کرنے کی اپیل کرنے کے بجائے ان کی مناسب دیکھ بھال کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ 400 سالہ شمپاکو جونیپر کو باقاعدگی سے پانی دینا بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک ہفتے تک بھی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔فیومی نے چوری ہونے والے بونسائی درختوں کو ’’اپنے بچوں‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برسوں کی محنت، محبت اور صبر سے ان کی پرورش کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چوری ہونے والے تمام بونسائی درختوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ امریکی ڈالر سے زائد ہے، تاہم اییمورا خاندان کے لیے ان کی اصل اہمیت مالی نہیں بلکہ جذباتی اور ثقافتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بونسائی صرف گملے میں اگایا جانے والا درخت نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ فن ہے جسے برسوں کی تراش خراش، مسلسل نگہداشت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربے سے پروان چڑھایا جاتا ہے۔
اسی لیے اس چوری کا سب سے بڑا افسوس صرف قیمتی درختوں کا کھو جانا نہیں، بلکہ یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر یہ صدیوں پرانا نایاب بونسائی کسی غیر ذمہ دار شخص کے ہاتھ لگ گیا تو مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔