نجی زمین پر ٹیلی کام تنصیبات، مالک کی اجازت لازمی قرار

نجی زمین پر ٹیلی کام تنصیبات، مالک کی اجازت لازمی قرار

وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نجی املاک پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کرنے سے قبل متعلقہ مالک کی باقاعدہ اجازت کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

یہ اعلان وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس وقت کیا جب بل کی ایک متنازع شق پر شدید تنقید سامنے آئی۔ ابتدائی مسودے میں تجویز دی گئی تھی کہ اگر کسی جائیداد کا مالک سرکاری نوٹسز کا جواب نہ دے تو اسے رضامندی تصور کیا جائے گا، تاہم حکومت نے یہ شق واپس لے لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، نیا یوزر نیم فیچر شروع

ترمیم شدہ بل کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں اب کسی بھی نجی ملکیت، بشمول گھروں، دکانوں، خالی پلاٹس اور زرعی زمین پر زیر زمین یا فضائی کیبل بچھانے یا ٹیلی کام آلات نصب کرنے سے پہلے مالک کی واضح اجازت حاصل کرنے کی پابند ہوں گی

حکومت نے بل میں ٹیلی کام آلات، زیر زمین اور فضائی تنصیبات، اور رائٹ آف وے سے متعلق اصطلاحات کی بھی وضاحت کر دی ہے تاکہ قانونی ابہام کو دور کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:وائی فائی صرف انٹرنیٹ نہیں، اب بجلی بھی فراہم کر سکتا ہے، نئی تحقیق

ترمیم کے مطابق کسی بھی تنازع کے حل کا طریقہ کار صرف اسی صورت میں لاگو ہوگا جب دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی معاہدے میں شامل ہوں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی ترمیم سرکاری اراضی پر ٹیلی کام تنصیبات پر لاگو نہیں ہوگی، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور منصوبہ بند رہائشی اسکیموں کے لیے پہلے سے موجود الگ ضابطہ کار ہی نافذ العمل رہے گا۔

editor

Related Articles