وطنِ عزیز کے عظیم سپوت حوالدار لالک جان شہید کی آج 27ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے اس موقع پر ملک بھر میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جبکہ افواجِ پاکستان نے ان کی بے مثال جرات بہادری اور وطن سے وفاداری کو سلام پیش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ حوالدار لالک جان شہید کی جرات استقامت اور قربانی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اسی طرح ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی عظیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حوالدار لالک جان کی قربانی دفاعِ وطن کی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔
کارگل میں بہادری کی لازوال داستان
حوالدار لالک جان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں یاسین سے تھا۔ وہ پاک فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری سے وابستہ تھے۔ کارگل جنگ کے دوران انہوں نے دشمن کے خلاف انتہائی اہم محاذ پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 7 جولائی 1999 کو دشمن کی جانب سے شدید گولہ باری اور مسلسل حملوں کے باوجود حوالدار لالک جان نے اپنی چوکی کا دفاع جاری رکھا۔ وہ شدید زخمی ہو چکے تھے تاہم انہوں نے انخلا کی پیشکش مسترد کر دی اور اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے آخری سانس تک دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اسی معرکے میں وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
نشانِ حیدر سے نوازا گیا
حوالدار لالک جان کی غیر معمولی بہادری فرض شناسی اور قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ملک کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا وہ ان چند عظیم سپاہیوں میں شامل ہیں جنہوں نے وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ اعزاز حاصل کیا۔
مزار کہاں ہے؟
حوالدار لالک جان شہید کا مزار ان کے آبائی گاؤں یاسین وادی میں واقع ہے جہاں ہر سال ان کی برسی کے موقع پر فاتحہ خوانی دعائیہ تقریبات اور خراجِ عقیدت کی مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ مقامی افراد عسکری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد مزار پر حاضری دے کر شہید کو سلام پیش کرتے ہیں۔
خدمات اور قومی ورثہ
حوالدار لالک جان نے ثابت کیا کہ وطن کی حفاظت کے لیے جذبۂ ایمان جرات اور قربانی کسی بھی جدید ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے حب الوطنی فرض شناسی نظم و ضبط اور ایثار کی روشن مثال ہے۔ افواجِ پاکستان اور پوری قوم آج بھی ان کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔