کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کراچی میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا حکام کے مطابق گرفتار ملزمان حساس تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کی شناخت مجاہد بلوچ اور فرید بلوچ عرف ذاکر بن کے نام سے ہوئی ہے ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں ملزمان کالعدم بی ایل اے کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی ریکی اور کمیونیکیشن کی خصوصی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان بی ایل اے کے کمانڈرز ساجد بلوچ اور بشیر زیب کی ہدایات پر کراچی میں مقیم تھے اور شہر میں حساس مقامات سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق معلومات اکٹھی کرکے اپنی تنظیم تک پہنچا رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزمان کراچی میں دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے اور نئے سہولت کاروں کی بھرتی کی کوششوں میں بھی مصروف تھے کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے چار کلو گرام بارودی مواد ڈیٹونیٹرز پرائما کورڈ (Prima Cord) اور بال بیرنگ برآمد کیے گئے جنہیں مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال کیا جانا تھا۔
حکام نے بتایا کہ برآمد ہونے والا مواد کسی بڑے دہشت گرد حملے میں استعمال کیا جا سکتا تھا تاہم بروقت کارروائی کے باعث دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
سی ٹی ڈی نے ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزمان کا نیٹ ورک کن افراد پر مشتمل ہے اور ان کے دیگر ساتھی کہاں موجود ہیں۔
سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کراچی اور دیگر علاقوں میں مزید کارروائیوں کا امکان ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔