شام کے دارالحکومت دمشق میں اس ہوٹل کے قریب بم دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں قیام کیے ہوئے ہیں۔
دھماکے وزارتِ سیاحت کے ہیڈکوارٹرز کے قریب ہوئے ہیں، ابتدائی طور پر ان دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) کا کہنا ہے صدر میکخواں نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی۔
یہ دھماکے شام کو درپیش سنگین سکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں ، میکخواں، 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں کے ہاتھوں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔
عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور علاقے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ، سکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
میکخواں کا دورہ احمد الشرع کی قیادت میں شام میں آنے والی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کو اجاگر کرتا ہے،احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک سے قریبی تعلقات قائم کیے ہیں جو بشار الاسد کی حکومت سے دوری اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ وہ 13 سالہ جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
شام کی خانہ جنگی کے دوران داعش سمیت متعدد شدت پسند گروہوں نے بھی ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں۔