وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے ، نظام کو سہل بناکر آسانیاں لانا چاہتے ہیں ۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے جو کر سکتے تھے کیا، درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کریں گے، زرِمبادلہ کے ذخائر تقریباً ساڑھے 18 ارب ڈالرز ہیں، پانڈا بانڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے، نجکاری کمیشن کو مزید 28 ریاستی ادارے مختص کیے گئے ہیں، نجکاری کے حوالے سے حکومت متحرک ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 11 آئی پی او ہوئے، نئے سرمایہ کار بالخصوص جین زی اسٹاک مارکیٹ میں دلچسپی لے رہی ہے، 2025 کے سیلابوں میں 2022 کی طرح بین الاقوامی مدد طلب نہیں کی، 2025 کے سیلابوں میں اپنے ذرائع سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پایا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں 50 کروڑ سے کم مالیت کے کاروباروں پر سپر ٹیکس کا خاتمہ کردیا ہے، سپر ٹیکس کا خاتمہ چھوٹے کاروباروں کے فروغ کیلئے ناگزیر تھا، کنسٹرکشن سیکٹر کو بجٹ میں ریلیف دیا ہے، زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز کو صفر کردیا گیا ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کی وسعت کے تناظر میں ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا، ٹیکنالوجی کے فروغ سے ٹیکس نظام میں انسانی روابط کو ختم کررہے ہیں، ہمیں ٹیکس انتظامیہ کے اعتماد میں بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے بلکہ نظام کو سہل بناکر آسانیاں لانا چاہتے ہیں، پاکستان جیسی آبادی کے ملک میں سب کو معقول ٹیکس دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور کو دیکھنا ہوگا کہ ٹرانس شپمنٹ کو کیسے وسعت دینی ہے، گزشتہ 3 ماہ سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ماہوار انفلوز 18کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر ہو چکے ہیں۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز کو سرمائے تک رسائی صرف بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیئے، بڑے کاروباروں کو بھی خوش آمدید کہا لیکن بجٹ میں ایس ایم ایز کیلئے بھی ایک خاص حصہ مختص کیا ہے، حکومت کے قرضوں کو کم ہونا چاہیئے، کوشش ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دیا جائے، نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو بھی آگے قدم بڑھانا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کیلئے دسمبر 2025 میں ایکسچینج کمپنیوں کو این او سی جاری ہوچکے ہیں، جس طرز پر معیشت آگے بڑھ رہی ہے، کمرشل بینک سائبر سکیورٹی کو یقینی بنائیں، گورنر اسٹیٹ بینک سائبر سیکورٹی کے حوالے سے پیشرفت کریں، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی ہے جب کہ ملکی جی ڈی پی کی شرح میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔