اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وکلا کو دلائل دینے کے لیے آخری مہلت دے دی ہے عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سماعت پر اگر اپیلوں پر دلائل پیش نہ کیے گئے تو مزید التوا نہیں دیا جائے گا اور قومی احتساب بیورو (نیب) کا مؤقف سننے کے بعد دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل سردار لطیف کھوسہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے جن کی وکالت ریکارڈ پر موجود ہے۔
حکم نامے کے مطابق سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو واضح یقین دہانی (انڈرٹیکنگ) کرائی کہ آئندہ سماعت پر وہ اپیلوں پر مکمل دلائل دیں گے اور مزید کسی قسم کی مہلت یا التوا کی درخواست نہیں کریں گے۔
عدالت نے وکیل کی اس یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ملتوی کرنے کی درخواست منظور کر لی تاہم اپنے حکم میں واضح کیا کہ یہ حتمی مہلت ہے اور اس کے بعد مزید التوا نہیں دیا جائے گا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر اپیل کنندگان کی جانب سے دلائل پیش نہ کیے گئے تو عدالت مزید انتظار نہیں کرے گی بلکہ نیب کا مؤقف سن کر دستیاب عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر اپیلوں کا فیصلہ کر دے گی۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دیا جا سکتا اس لیے فریقین کو مقررہ وقت میں اپنے دلائل مکمل کرنا ہوں گے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے جبکہ آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔