کوآرڈینیٹر وزیراعظم اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے متنازع بل منظور کیا گیا ،صوبائی حکومت اسے فوری واپس لے ۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں متنازع بل منظور کیا گیا ، جس کے تحت وزیراعلیٰ کے پی کو لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی اس قانون کو واپس لے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے تحت ہر رکن اسمبلی اوراسکے شریک حیات کو بلیو پاسپورٹ کا اہل قراردیاگیا، بلیو پاسپورٹ کا مقصد پاکستان سے فرار ہے ۔
ان کاکہنا تھا کہ بل میں ارکان اسمبلی کو 8 کلاشنکوف لائسنس دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ، ہم یہاں ملک کو اسلحہ سے پاک کررہے ہیں اور یہ اسلحہ دے رہے ہیں ۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اشرافیہ کے خلاف بات کرنے والے اس بل کی منظوری پر کیا جواب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات عوامی مفاد اور حکمرانی کے اصولوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے منظور کردہ اس بل کے مختلف پہلوؤں پر عوامی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے قوانین متعارف کرا رہی ہے جن کا مقصد اختلافی آوازوں اور آزاد صحافت کو محدود کرنا ہے ، حکومت اپنے لیے الگ قانون اور عوام کے لیے الگ قانون چاہتی ہے، جبکہ حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے بھی خصوصی رعایتیں رکھی جا رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے صوبائی اسمبلی سے منظور کیے گئے استحقاق ترمیمی ایکٹ کو آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے اور اسمبلی کی رپورٹنگ کو حکومتی اجازت سے مشروط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اختیار ولی نے کہا کہ نئے قانون کے تحت اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک التوا، سوالات، قرارداد یا دیگر کارروائی اس وقت تک میڈیا پر نشر یا شائع نہیں کی جا سکے گی جب تک اسپیکر اسے ایوان میں پیش نہ کر دیں، ان کے بقول اس سے پارلیمانی رپورٹنگ اور عوام کے حقِ معلومات پر قدغن لگے گی۔