ندیم ملک نے سوشل میڈیا کے بچوں پر اثرات سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی

ندیم ملک نے سوشل میڈیا کے بچوں پر اثرات سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی

دنیا بھر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے بحث زور پکڑ گئی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی کم عمر صارفین کے لیے واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر ضابطے بنانے کی ضرورت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

معروف اینکر ندیم ملک نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو کسی نہ کسی حد تک قانون اور ضابطوں کے ذریعے منظم کیا جائے تاکہ انہیں نامناسب مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی یہ سوال مسلسل زیر بحث آ رہا ہے کہ کیا کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر کچھ پابندیاں یا عمر کے مطابق شرائط عائد کی جانی چاہییں یا نہیں۔

ندیم ملک کے مطابق آج کی نئی نسل ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے اور ان کی روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ انہی ایپس پر گزرتا ہے۔ ایسے میں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کم عمر اور ناتجربہ کار ذہنوں کو ہر قسم کا مواد بغیر کسی فلٹر کے دستیاب ہونا چاہیے یا ان کے لیے عمر کے مطابق مواد کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: شاباش جیو نیوز، پیمرا کے حکم نامے کی مکمل تعمیل، یوٹیوب، سوشل میڈیا سمیت ملک بھر میں نشریات بند

انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپ کے کئی ممالک میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ بالغ افراد کے لیے مخصوص مواد تک 12، 13 اور 14 سال کی عمر کے بچوں کی رسائی محدود ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا جائے کہ وہ کم عمر صارفین کو صرف ایسا مواد دکھائیں جو ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے مطابق ہو۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد اور منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نئے قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک پر کام کر رہے ہیں تاکہ کم عمر صارفین کے لیے محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، ان کی ذہنی صحت اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے پاکستان میں بھی سنجیدہ اور متوازن قومی سطح پر بحث کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے نئی نسل کو ممکنہ نقصانات سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

Related Articles