آٹے کی نئی سرکاری قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

آٹے کی نئی سرکاری قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

کراچی میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 116 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے کے بعد آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ممکنہ قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب کمشنر کراچی نے آٹے کے نئے سرکاری نرخ جاری کر دیے ہیں، تاہم فلور ملز مالکان اور آٹا چکی ایسوسی ایشن نے ان نرخوں کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے مارکیٹ میں افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر آٹے کی ہول سیل قیمت 122 روپے جبکہ ریٹیل قیمت 125 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح فائن آٹے کی ہول سیل قیمت 132 روپے اور ریٹیل قیمت 135 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، جبکہ چکی آٹے کا سرکاری نرخ 145 روپے فی کلوگرام طے کیا گیا ہے۔

تاہم مارکیٹ میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ریگولر آٹا 145 سے 150 روپے، فائن آٹا 160 سے 170 روپے اور چکی آٹا تقریباً 160 روپے فی کلوگرام فروخت کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بھی مختلف علاقوں میں آٹے کی اصل فروخت قیمتوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جنید عزیز نے محکمہ خوراک کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اوپن مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر سرکاری نرخوں پر آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جب حکومت سرکاری نرخ پر گندم فراہم کرتی ہے تو باہمی مشاورت سے آٹے کی قیمت بھی مقرر کی جاتی ہے، لیکن اس وقت تمام گندم اوپن مارکیٹ سے خریدی جا رہی ہے جہاں قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شاباش جیو نیوز، پیمرا کے حکم نامے کی مکمل تعمیل، یوٹیوب، سوشل میڈیا سمیت ملک بھر میں نشریات بند

انہوں نے بتایا کہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم 116 روپے فی کلوگرام فروخت ہو رہی ہے، جبکہ فائن آٹے کی ایکس مل قیمت 144 روپے اور سپر ریگولر آٹے کی ایکس مل قیمت 135 روپے فی کلوگرام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سرکاری نرخوں پر آٹے کی فروخت ممکن نہیں، اور اگر قیمتوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو شہر میں آٹے کی قلت اور بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

فلور ملز مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت زمینی حقائق اور خام مال کی موجودہ قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آٹے کے سرکاری نرخوں پر نظرثانی کرے تاکہ صارفین اور صنعت دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles