الیکٹرک بائیکس، رکشہ اور لوڈرز کی خریداری پر فیز ٹو سبسڈی اسکیم کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس کے تحت حکومت نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے اور مہنگے ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد نہ صرف تیل کی بچت کرنا ہے بلکہ مقامی صنعت کو فروغ دینا اور شہریوں کو کم لاگت سفری سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر اکتالیس ہزار گاڑیوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جبکہ اس کے لیے دو لاکھ انہتر ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے اکتالیس ہزار افراد کو منتخب کیا گیا، جن میں سے اب تک ایک ہزار تین سو چونتیس الیکٹرک بائیکس صارفین تک پہنچائی جا چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سبسڈی کی مد میں رقوم بھی مرحلہ وار صارفین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہیں دوسرے مرحلے میں الیکٹرک بائیکس پر اسی ہزار روپے فی بائیک سبسڈی دی جائے گی جبکہ ایک لاکھ اضافی بائیکس آئندہ تین ماہ میں مارکیٹ میں لانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اس اسکیم کے تحت گریڈ سولہ اور اس سے کم درجے کے سرکاری ملازمین کو بغیر سود آسان اقساط پر الیکٹرک بائیک یا رکشہ فراہم کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر صرف دس ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ باقی رقم ماہانہ تنخواہ سے قسطوں کی صورت میں کاٹی جائے گی۔ اس مرحلے میں متعلقہ کمپنیاں براہ راست گاڑی فراہم کریں گی جبکہ حکومتی سبسڈی بعد میں کمپنیوں کو ادا کی جائے گی۔
نئے طریقہ کار کے مطابق درخواست دینے کا عمل بھی آسان بنایا گیا ہے اور پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر انتخاب کیا جائے گا جبکہ صوبائی کوٹہ بھی برقرار رہے گا۔ اس اسکیم میں بڑی فلیٹ آپریٹنگ کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں، دوسرے مرحلے میں چھ سو ٹاپ پوزیشن ہولڈر سرکاری کالج طلبہ کو مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے تھرڈ پارٹی تصدیق کا نظام جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق اس سال مجموعی طور پر ایک لاکھ سولہ ہزار الیکٹرک بائیکس اور تین ہزار ایک سو ستر رکشے اور لوڈرز تقسیم کیے جائیں گے، جس سے ایندھن کی مد میں تین ماہ کے دوران تقریباً آٹھ اعشاریہ چھ ملین لیٹر کی بچت متوقع ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس توسیع شدہ اسکیم کی باضابطہ منظوری بھی دے دی ہے۔