پاکستان کی شرح نمو کتنی رہے گی ؟ ایشائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری

پاکستان کی شرح نمو کتنی رہے گی ؟ ایشائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے نئے مالی سال کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا تخمینہ کم کر کے 3.7 فیصد کر دیا ہے  جبکہ مہنگائی کی متوقع شرح بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی گئی ہے۔

اے ڈی بی کی جاری کردہ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی متوقع معاشی شرح نمو جنوبی ایشیا میں افغانستان اور مالدیپ کے بعد تیسری کم ترین ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح بنگلہ دیش کے بعد خطے میں دوسری بلند ترین رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2026 میں اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 4.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تازہ جائزے میں اسے کم کر کے 3.7 فیصد کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کی شرح نمو کے برابر ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکے مساوی نیا قرض لےگا،وزارت خزانہ

بینک کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کی بنیادی وجوہات توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، ترسیلات زر پر دباؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معیشت پر منفی اثرات ہیں۔

اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان میں مہنگائی کی متوقع شرح بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی گئی ہے، جو جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش کی 8.8 فیصد متوقع شرح کے بعد دوسری بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو افغانستان، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی نئی تجارتی پالیسی کے تحت پاکستان سمیت تقریباً 60 ممالک کی برآمدات پر 24 جولائی 2026 سے 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 1.9 فیصد ہونے کی پیش گوئی کردی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ترقی پذیر ممالک امریکی تجارتی پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں مؤثر ٹیرف کی اوسط شرح 24.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اپریل 2025 سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔

دوسری جانب وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی جبری مشقت سے تیار یا حاصل کی گئی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر چکا ہے۔ وزارت کے مطابق ایک پاکستانی وفد اس وقت امریکا میں موجود ہے، جہاں وہ 24 جولائی سے مجوزہ اضافی ٹیرف سے بچنے کے لیے امریکی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔

editor

Related Articles