ہوائی جہاز کا شیشہ عام شیشے جیسا نہیں،حیران کن حقیقت سامنے آگئی

ہوائی جہاز کا شیشہ عام شیشے جیسا نہیں،حیران کن حقیقت سامنے آگئی

ہوائی جہاز کا اگلا شیشہ، جسے ونڈ شیلڈ کہا جاتا ہے، جدید انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ اسے انتہائی سخت موسمی حالات، فضائی دباؤ اور پرواز کے دوران ممکنہ خطرات کا سامنا کرنے کے لیے خاص انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، طیارے کی ونڈ شیلڈ عموماً 30 سے 40 ملی میٹر موٹی ہوتی ہے اور اسے تین سے پانچ مضبوط تہوں پر مشتمل خصوصی مواد سے بنایا جاتا ہے۔

یہ شیشہ اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ اگر پرواز کے دوران تقریباً 550 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کوئی پرندہ طیارے سے ٹکرا جائے تو بھی ونڈ شیلڈ اس شدید ضرب کو برداشت کر سکے اور کاک پٹ کو محفوظ رکھے۔

یہ بھی پڑھیں :وہ ریلوے اسٹیشن جو ایک طالبہ کے لیے کھلا رکھا گیا؟ حقیقت کیا ہے؟

اس مقصد کے لیے کیمیائی طور پر مضبوط شیشہ، ایکریلک اور پولی یوریتھین جیسے جدید مواد استعمال کیے جاتے ہیں، جو ٹوٹنے کے بجائے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی توانائی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ونڈ شیلڈ صرف حفاظتی ڈھال ہی نہیں بلکہ ایک جدید حرارتی نظام کا بھی حصہ ہوتی ہے۔ اس کی تہوں کے درمیان سونے یا ٹن آکسائیڈ کی نہایت باریک شفاف تہہ موجود ہوتی ہے، جس میں برقی رو گزار کر شیشے کو گرم رکھا جاتا ہے تاکہ انتہائی سرد موسم میں اس پر برف نہ جم سکے۔

یہ بھی پڑھیں:موت سے پہلے انسان کن کیفیات سے گزرتا ہے؟برطانوی نرس کے مشاہدات سامنے آگئے

طیارے کی ونڈ شیلڈ کو خصوصی سیلانٹس کی مدد سے جہاز کے ڈھانچے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے تاکہ کیبن کے اندر اور باہر موجود فضائی دباؤ کے بڑے فرق کو محفوظ طریقے سے برداشت کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق، اگر کسی حادثے یا شدید ٹکراؤ کے باعث بیرونی تہہ کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اندرونی تہیں کیبن کے اندر ہوا کا دباؤ برقرار رکھتی ہیں، جس سے مسافروں اور عملے کی حفاظت ممکن ہوتی ہے۔جدید ونڈ شیلڈ کی یہی خصوصیات اسے ہوابازی کی محفوظ ترین اور اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شامل کرتی ہیں۔

editor

Related Articles