جاپان کے دور دراز علاقے کیو شِراتاکی اسٹیشن سے متعلق ایک دل چھو لینے والی کہانی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، تاہم حقائق اس مشہور دعوے سے کچھ مختلف ہیں۔
جاپان نے ایک ہائی اسکول کی طالبہ کانا ہارادا کی تعلیم مکمل ہونے تک اس کے لیے ریلوے اسٹیشن کھلا رکھا، جس کے بعد اس کی گریجویشن پر اسٹیشن مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کانا ہارادا واقعی اس دور افتادہ اسٹیشن سے اسکول آنے جانے کے لیے ٹرین استعمال کرتی تھیں، جبکہ کیو شِراتاکی اسٹیشن مارچ 2016 میں ان کی گریجویشن کے وقت بند بھی کر دیا گیا۔ تاہم فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق، یہ تاثر درست نہیں کہ اسٹیشن صرف ایک طالبہ کی سہولت کے لیے کھلا رکھا گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ریلوے حکام نے کم مسافروں کی وجہ سے اسٹیشن کو بند کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا تھا، اور اس کی بندش کا شیڈول پہلے سے طے تھا۔ اتفاق سے یہ تاریخ طالبہ کی گریجویشن کے وقت سے قریب تھی، جس کی وجہ سے یہ کہانی دنیا بھر میں ایک جذباتی روایت کے طور پر پھیل گئی۔
اگرچہ یہ دعویٰ مکمل طور پر درست نہیں، لیکن کانا ہارادا کا اس اسٹیشن کے ذریعے اسکول جانا اور اسٹیشن کا ان کی گریجویشن کے مہینے میں بند ہونا ایک حقیقی واقعہ ہے، جس نے جاپان کے عوامی ٹرانسپورٹ نظام اور تعلیم سے وابستگی پر عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔