موت سے پہلے انسان کن کیفیات سے گزرتا ہے؟برطانوی نرس کے مشاہدات سامنے آگئے

موت سے پہلے انسان کن کیفیات سے گزرتا ہے؟برطانوی نرس کے مشاہدات سامنے آگئے

برطانیہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے ہاسپس نرس کے طور پر خدمات انجام دینے والی پینی ہاکنز اسمتھ نے موت کے قریب پہنچنے والے مریضوں کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی کے آخری مرحلے میں بہت سے افراد ایک جیسی کیفیات اور مشاہدات بیان کرتے ہیں۔

62 سالہ پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، قدرتی موت کے عمل کے دوران مریض عموماً زیادہ وقت سونے لگتا ہے، اردگرد کے ماحول پر اس کا ردعمل بتدریج کم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ایک گہری بے خبری کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے، جسے طبی ماہرین موت سے پہلے کا قدرتی مرحلہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :17 سال بعد زمین سے نکلنے والے سکیڈا کی زندگی کا حیرت انگیز راز

انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمول کا جسمانی عمل ہے، اس لیے اہل خانہ کو گھبرانے کے بجائے اس کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پینی کے مطابق، کئی مریض اپنی زندگی کے آخری دنوں یا گھنٹوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جو حیران کن ہوتے ہیں۔ بعض افراد اپنے انتقال کر جانے والے عزیزوں کو دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ کچھ خود کو کسی سفر یا نئی منزل کی جانب روانہ ہونے کے احساس سے تعبیر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاسپس کیئر میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں سمجھے جاتے اور متعدد مریض ان آخری لمحات میں خوف کے بجائے سکون اور اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وہ ریلوے اسٹیشن جو ایک طالبہ کے لیے کھلا رکھا گیا؟ حقیقت کیا ہے؟

پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، معاشرے میں موت پر بات کرنے سے اکثر گریز کیا جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اس قدرتی مرحلے کے بارے میں کم معلومات رکھتے ہیں اور غیر ضروری خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طبی شعبے میں ڈاکٹروں کی توجہ عموماً مریض کی جان بچانے اور زندگی کو طول دینے پر ہوتی ہے، اسی لیے بعض اوقات موت کو ناکامی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ انسانی زندگی کا ایک فطری اور ناگزیر حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن کیسا ہے؟ چین کا نیا عالمی ریکارڈ

نرس کے مطابق، ہاسپس میں آنے والے کئی خاندان ابتدا میں اس حقیقت کو قبول نہیں کر پاتے کہ مریض زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایسے میں طبی عملہ انہیں اس دوران ظاہر ہونے والی جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہر مریض کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں اکثر افراد میں کچھ مشترکہ علامات دیکھی جاتی ہیں، جن میں زیادہ نیند آنا، ماحول پر کم ردعمل دینا اور جسمانی کمزوری کا بتدریج بڑھنا شامل ہے۔

editor

Related Articles