نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت کی جانب پیش رفت کے بعد دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ثالث اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں 47 برس بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند سال قبل پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا قرار دیا جاتا تھا تاہم آج صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور پاکستان کو دنیا بھر میں امن، مذاکرات اور تنازعات کے حل میں ایک مؤثر اور ذمہ دار کردار کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح کے مختلف اہم فورمز میں شرکت کے لیے پاکستان کو بڑی تعداد میں دعوت نامے موصول ہوتے ہیں جن میں سے حکومت کو انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور مثبت سفارتی کردار نے ملک کا وقار عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔