عالمی توانائی منڈی میں بھونچال، روس نے ڈیزل کی برآمدات روک دیں، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

عالمی توانائی منڈی میں بھونچال، روس نے ڈیزل کی برآمدات روک دیں، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

روس کی جانب سے ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر فوری اور غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں سپلائی کا بحران شدید ہو گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے اس فیصلے کے فوری بعد امریکا اور یورپ میں صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں 11 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یوکرینی ڈرون حملوں اور مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے دوران سامنے آنے والے اس اقدام نے برازیل، ترکیہ اور یورپی ممالک کو متبادل سپلائی کے لیے ایک سخت مقابلے میں دھکیل دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور بجلی کی پیداوار کے شعبے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

روس کا اقدام اور عالمی منڈی کی صورتحال

روس رقبے اور پیداوار کے لحاظ سے امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ڈیزل برآمد کنندہ ہے۔ روسی حکومت کے اس اچانک فیصلے نے عالمی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل مارکیٹ میں بڑی ہلچل ، سعودی عرب، روس سمیت 7 ممالک کا تیل پیداوار ایڈجسٹ کرنے پر اتفاق

بین الاقوامی منڈیوں میں پہلے ہی صنعتی ایندھن کی کمی تھی، تاہم اس فیصلے کے بعد امریکی ڈیزل فیوچر کی قیمتوں میں دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً 11 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یورپ میں گیس آئل کا پریمیم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس نے یورپی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

بحران کے محرکات

روسی ڈیزل کی برآمدات میں یہ رکاوٹ اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ گزشتہ چند ماہ سے یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریز پر مسلسل ڈرون حملوں کے باعث روس کی ایندھن صاف کرنے کی صلاحیت پہلے ہی متاثر ہو چکی تھی۔

اس کے علاوہ روس کو اپنے اندرونی بازاروں میں زراعت کے سیزن کے دوران ڈیزل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا تھا، جس پر قابو پانے کے لیے ماسکو نے برآمدات روکنے کا کارڈ کھیلا۔

مزید برآں ایران سے متعلق حالیہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حمل کو لاحق خطرات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عالمی سپلائی لائنز کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

متبادل سپلائی کے لیے عالمی جنگ اور اثرات

روسی ایندھن کی عدم دستیابی کے بعد اب دنیا بھر کے خریدار متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرینِ توانائی کے مطابق برازیل، ترکیہ اور کئی یورپی ممالک جو روسی ڈیزل کے بڑے خریدار تھے، اب متبادل کارگو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔

اس سخت مقابلے کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات (فریٹ چارجز) میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بحران کے براہ راست اثرات عالمی سطح پر مال برداری (ٹرانسپورٹ)، بھاری مشینری، زراعت اور بجلی کی پیداوار کے شعبوں پر مرتب ہو رہے ہیں، جو بالآخر عالمی مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:روسی میڈیا کا بڑا دعویٰ: آبنائے ہرمز کے بحران میں روس پاکستان کو تیل کی فراہمی جاری رکھے گا”

معاشی ماہرین کے مطابق روس کا یہ اقدام محض ایک اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی گہرے ہیں۔ یورپ پر یوکرین جنگ کے تناظر میں دباؤ بڑھانے کے لیے توانائی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

چونکہ ڈیزل کو عالمی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے (جو ٹرکوں، جہازوں اور فیکٹریوں کو چلاتا ہے)، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی چین کی ہر چیز کو مہنگا کر دے گا۔

اگر یہ پابندی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو مغربی ممالک میں سینٹرل بینکوں کے لیے مہنگائی کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا اور عالمی معیشت ایک بار پھر کساد بازاری کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

Related Articles