میٹا نے اپنے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پلیٹ فارم کے تحت نیا امیج جنریٹر ’’میوز امیج فیچر‘‘ متعارف کرا دیا ہے، تاہم لانچ کے چند ہی گھنٹوں بعد یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی سے متعلق خدشات کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گیا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق نیا فیچر فی الحال میٹا اے آئی ایپ، انسٹاگرام اسٹوریز اور واٹس ایپ پر مفت دستیاب ہے۔ اس کی مدد سے صارف صرف تحریری ہدایات (پرامپٹس) دے کر نئی اے آئی تصاویر تیار کر سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر کسی شخص کا انسٹاگرام اکاؤنٹ پبلک ہے تو دوسرا صارف اس کا یوزر نیم پرامپٹ میں شامل کرکے اس کی موجودہ تصاویر کی بنیاد پر اے آئی سے نئی تصاویر تیار کر سکتا ہے۔
اسی فیچر نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق کسی کی واضح اجازت کے بغیر اس کی تصاویر کو اے آئی کے ذریعے استعمال کرنا رازداری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
میٹا کے مطابق انسٹاگرام پر موجود پبلک تصاویر کو اے آئی فیچرز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس عمل کے دوران متعلقہ صارف کو الگ سے کوئی اطلاع نہیں دی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر صارف اپنی تصاویر کو اے آئی کے استعمال سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ انسٹاگرام کی سیٹنگزمیں جا کر شئیرنگ ایںڈ ری یوز کے سیکشن سے متعلقہ اجازتیں بند کر سکتے ہیں یا اپنا اکاؤنٹ پرائیویٹ کر سکتے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ آپشن پہلے سے فعال ہوتا ہے، اس لیے بہت سے صارفین کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا، جو پرائیویسی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
میٹا کے نئے اے آئی ٹول کے ذریعے تصاویر میں مختلف تبدیلیاں بھی کی جا سکیں گی، جن میں پس منظر سے غیر ضروری افراد کو ہٹانا تاریخی مقامات کے سامنے نئی تصاویر تیار کرنا،مختلف آرٹ اسٹائلز میں تصاویر بنانا ،کیو آر کوڈ تیار کرناانسٹاگرام اسٹوریز کے لیے نئے اے آئی فلٹرز استعمال کرنا۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اشتہارات، انٹیریئر ڈیزائن، فیس بک مارکیٹ پلیس اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے اس فیچر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ کسی کی واضح اجازت کے بغیر اس کی تصاویر کو اے آئی کے ذریعے تبدیل کرنے کی سہولت پرائیویسی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق میٹا ماضی میں بھی صارفین کے ڈیٹا سے متعلق تنازعات کا سامنا کر چکی ہے، جن میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل اور فیشل ریکگنیشن سے متعلق قانونی مقدمات شامل ہیں۔ اسی وجہ سے نئے اے آئی فیچر پر بھی صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں ’’میوز ویڈیو‘‘کے نام سے اے آئی ویڈیو جنریٹر بھی متعارف کرایا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق عام صارفین کے لیے یہ سروس مفت ہوگی، تاہم مقررہ حد سے زیادہ استعمال پر سبسکرپشن درکار ہوگی۔