پی ٹی اے ڈیٹا سینٹرز کا لائسنسنگ فریم ورک تیار نہ کر سکی، آڈٹ رپورٹ سامنے آ گئی

پی ٹی اے ڈیٹا سینٹرز کا لائسنسنگ فریم ورک تیار نہ کر سکی، آڈٹ رپورٹ سامنے آ گئی

پاکستان کی پہلی قومی کلاؤڈ پالیسی کی منظوری کو4 سال گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث سرکاری اور شہریوں کے حساس ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق قومی کلاؤڈ پالیسی کے تحت تمام حساس اور سرکاری ڈیٹا کو محفوظ انداز میں ملکی سرورز پر منتقل کرنا لازمی تھا، جبکہ سرکاری اداروں کو الگ الگ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے بجائے کلاؤڈ انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :سائبر حملوں کے خطرات بڑھ گئے، حکومت نے نیوز چینلز کو الرٹ جاری کر دیا

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پالیسی کی منظوری کے باوجود چار برس گزرنے کے بعد بھی ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جا سکا، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر غیر رجسٹرڈ ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، جو سائبر سکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی کلاؤڈ پالیسی کے تحت ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ، ڈیٹا سکیورٹی کے معیارات، جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور سرکاری ڈیٹا کو مرحلہ وار کلاؤڈ پر منتقل کرنا شامل تھا، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) تاحال ڈیٹا سینٹرز کے لیے لائسنسنگ فریم ورک تیار نہیں کر سکی۔

یہ بھی پڑھیں :فائیو جی ٹیکنالوجی کا کمال، ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر پھیپھڑے کی سرجری

اس حوالے سے پی ٹی اے کا مؤقف ہے کہ نیا لائسنسنگ فریم ورک تیاری کے مراحل میں ہے، تاہم اب تک روایتی لائسنسنگ نظام نافذ نہیں کیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت بھی ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ لازمی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ریگولیٹری نگرانی مؤثر نہیں رہی، جس سے ڈیٹا سکیورٹی اور سائبر تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

editor

Related Articles