چمکدار سینگوں والے حیرت انگیز ہرن ، حقیقت میں کیا ہیں؟

چمکدار سینگوں والے حیرت انگیز ہرن ، حقیقت میں کیا ہیں؟

کبھی کبھار چھوٹے اور سادہ خیالات بھی بڑے مسائل کا مؤثر حل بن جاتے ہیں۔ فن لینڈ کے بعض علاقوں میں ایک منفرد تجربہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ہرنوں (رینڈئیر) کے سینگوں پر ریفلیکٹو (روشنی منعکس کرنے والا) پینٹ یا خصوصی عکاس مواد لگایا جا رہا ہے تاکہ رات کے وقت وہ گاڑی چلانے والوں کو آسانی سے دکھائی دے سکیں۔

اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر ہرنوں اور گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کمی لانا، جنگلی حیات کا تحفظ کرنا اور ڈرائیوروں کے لیے سفر کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔

ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی جسامت والے جنگلی جانوروں کے ساتھ گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، افراد زخمی ہوتے ہیں اور املاک کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہوائی جہاز کا شیشہ عام شیشے جیسا نہیں،حیران کن حقیقت سامنے آگئی

ماہرین کے مطابق ہرنوں کے سینگوں پر ریفلیکٹو مواد لگانا مکمل حل تو نہیں، لیکن یہ ایک ایسا عملی اور کم لاگت طریقہ ہے جو انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان محفوظ بقائے باہمی کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے سڑکوں کا جال جنگلات اور قدرتی رہائش گاہوں تک پھیل رہا ہے، ویسے ویسے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نہ اپنا ایئرپورٹ، نہ الگ کرنسی، پھر بھی دنیا کی مضبوط ترین معیشت رکھنے والا ملک

ان کے مطابق وائلڈ لائف کراسنگز (جنگلی جانوروں کے لیے مخصوص گزرگاہیں)، بہتر سڑک منصوبہ بندی، واضح انتباہی سائن بورڈز، ڈرائیوروں میں آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اقدامات بھی جنگلی حیات سے ہونے والے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کو ساتھ لے کر چلا جائے تو انسان اور قدرت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ایک ساتھ محفوظ طریقے سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles