وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک اپنی معیشت کو ایک کھرب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے لیے پرعزم ہے اور ملک معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کے اہم مراحل عبور کر چکا ہے۔
ہیوسٹن کی رائس یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سفارتی کامیابیوں کے بڑے سنگ میل عبور کرلیے ،پاکستان اب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ معاشی پروگرام اڑان پاکستان” قومی تعمیرِ نو کا جامع مشن ہے جس کے ذریعے دیرپا ترقی کے لیے اصلاحات اور طویل المدتی تبدیلیوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے آپریشن بنیان مرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی بصیرت، یکجہتی اور ہم آہنگی کا مظہر تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان پر عالمی اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
احسن اقبال نے ایران امریکا تنازع میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
اس موقع پر احسن اقبال نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ملاقات کی، جس میں زچہ و بچہ کی صحت، بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے اور صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔