عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے سلطنتِ عمان نے 2 الگ بحری راہداریوں کے قیام کی ایک اہم تجویز پیش کر دی ہے۔
سطلنت عمان کے اس منصوبے کے تحت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر ایران نے فوری حامی بھرنے کے بجائے تہران میں اعلیٰ سطح کی مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
عمان کی نئی بحری تجویز اور منصوبے کے خدوخال
امریکا کے سرکاری ٹی وی ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق سطلنت عمان کی جانب سے پیش کردہ اس اسٹریٹجک منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کو 2 حصوں یعنی شمالی اور جنوبی راہداریوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
جنوبی بحری راہداری
اس تجارتی راستے کو بین الاقوامی بحری جہازوں کی مکمل طور پر آزادانہ اور بلا روک ٹوک آمد و رفت کے لیے مخصوص کیا جائے گا۔
شمالی بحری راہداری
اس راستے سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کریں۔
ٹول اور اضافی فیسوں کا خاتمہ
سلطنتِ عمان نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بین الاقوامی جہاز پر کسی قسم کا نیا ٹول ٹیکس یا اضافی بحری فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
مسقط میں اہم سفارتی ملاقات اور ایرانی ردِعمل
اس اہم تجویز پر عمان کے دارالحکومت مسقط میں سلطنتِ عمان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم اور تفصیلی ملاقات بھی ہوئی ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے تکنیکی اور سیاسی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب بین الاقوامی جریدے ’ایگزیوس‘ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمانی تجویز کو فوری طور پر تسلیم نہیں کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس نازک اور اہم منصوبے پر تہران میں مزید تفصیلی غور و خوض اور اندرونی مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت ہی اس منصوبے کی منظوری کا حتمی فیصلہ کرے گی۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔
ماضی میں امریکا، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حملوں ان کو قبضے میں لینے اور بحری ناکہ بندی کے خدشات سر اٹھاتے رہے ہیں۔
عمان ہمیشہ سے خطے میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور اس کی یہ تازہ ترین کوشش بھی خلیج میں ایک بڑے بحری ٹکراؤ کو روکنے کی کڑی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے بحری منظر نامے کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش
واضح رہے عمان کی جانب سے پیش کی جانے والی یہ تجویز مشرقِ وسطیٰ کے بحری منظر نامے کو تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
جنوبی راہداری کو آزاد رکھنے کا مقصد امریکا اور مغرب کے ان تحفظات کو دور کرنا ہے جو وہ جہاز رانی کی آزادی کے حوالے سے رکھتے ہیں۔
دوسری طرف، شمالی راہداری پر ایران کو پیشگی اجازت کا اختیار دے کر عمان نے تہران کے سیکیورٹی خدشات اور خطے پر اس کے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم ایران کا فوری طور پر اس منصوبے کو قبول نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ تہران اس بحری تقسیم کے قانونی اور اسٹریٹجک اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
ایران یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ اس کے پانیوں کے قریب کسی بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی گرفت کمزور ہو۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں جنگ کے بادل چھٹ سکتے ہیں، لیکن اس کی کامیابی کا تمام تر دارومدار ایران کی اعلیٰ قیادت کے حتمی فیصلے اور امریکی ردِعمل پر ہے۔