قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جہاں ارکان نے مختلف شہروں میں ناقص نیٹ ورک اور کالز کے مسائل پر تنقید کی۔
ارکان کمیٹی کی موبائل سروس پر سخت تنقید
اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی امین الحق نے کی، جبکہ کمیٹی ارکان نے موبائل کمپنیوں کی سروس کے معیار پر سوالات اٹھائے،رکن کمیٹی مہیش کمار نے کہا کہ ملک میں موبائل سروس کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ، پنجاب میں بھی حالات تسلی بخش نہیں جبکہ سندھ میں صورتحال مزید خراب ہے،کمیٹی رکن صادق میمن نے کہا کہ اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی کالز کا معیار غیر تسلی بخش ہے، جبکہ کراچی میں بعض نیٹ ورکس کی سروس انتہائی ناقص ہے۔
وزیر آئی ٹی کا مؤقف، مسائل موجود مگر بنیادی نوعیت کے ہیں
اجلاس میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موبائل سروس سے متعلق مسائل موجود ہیں، تاہم یہ بنیادی نوعیت کے ہیں،انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں صارفین کا اوسط ماہانہ خرچ کم ہے، جبکہ ڈیٹا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی ٹی اے کا اعتراف، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے
چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ ضلعی سطح پر موبائل سروس کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے کوالٹی آف سروس سروے کر رہا ہے،انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ موبائل سروس کا معیار مکمل طور پر بہتر ہو چکا ہے، فائیو جی سروس کے آغاز کے بعد معیار میں بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔
فائیو جی کے راستے میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر بڑے چیلنجز
وفاقی وزیر آئی ٹی نے بتایا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد اب عملی تنصیب کا مرحلہ شروع ہو گا، تاہم ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی درآمد اور سرمایہ کاری کی کمی بڑے چیلنجز ہیں،انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال موبائل ٹاورز پر چوری کے 9 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بعض علاقوں میں ٹاورز کو مکمل طور پر نقصان پہنچایا گیا۔
18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ بھی موبائل سروس کی خرابی کی وجہ قرار
چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس کو بتایا کہ ملک کے بعض علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش کے باعث موبائل سروس متاثر ہوتی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت جامعات کو فائبرائز کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔