سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر چوہدری گفتار حسین اور سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن آزاد جموں و کشمیر قاضی عنایت علی نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ 38 دنوں سے آزاد کشمیر کا امن اور معمولاتِ زندگی سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کے نام پر احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر دھونس، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مستقل ہتھیار بنایا گیا، جبکہ اس تنظیم کا اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے۔
پاکستان اور کشمیر کے تاریخی رشتے کونقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی
پاکستان اور کشمیر کے تاریخی رشتے کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاجروں کو دھمکیاں دے کر زبردستی بازار بند کروانا اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنانا اس تنظیم کا وتیرہ بن چکا ہے، جبکہ طلباء، خواتین اور بچوں کا بطورِ انسانی ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے اور طلباء کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں زبردستی احتجاجی اور انتشاری سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی غیور عوام نے شرپسندوں کے انتشاری ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال اور تمام تعلیمی ادارے دوبارہ فعال ہو چکے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے ہر قسم کی بلیک میلنگ، دھونس اور انتشار کا قانون کے مطابق جواب دینے کے لیے مکمل متحرک ہیں۔
مہران کی انٹری پوائنٹ بند کرنے کی دھمکی گھنائونا حربہ
انہوں نے کہاکہ کالعدم تنظیم کے سرغنہ خواجہ مہران نے آزاد کشمیر کے انٹری پوائنٹس بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے، تاہم ڈیڈ لائن دینے کا یہ گھناؤنا حربہ نیا نہیں اور ماضی میں بھی ایسی تمام دھمکیاں ناکام ثابت ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی بھاری اکثریت کالعدم تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کر کے انتشاری ایجنڈا مسترد کر چکی ہے جبکہ کالعدم کمیٹی کے گزشتہ احتجاجوں کے باعث آزاد کشمیر کو پہلے ہی اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
شرپسندوں کی معصوم شہریوں پر فائرنگ
انہوں نے کہا کہ علی الصبح متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ میں شرپسندوں نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی،پولیس نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ رکوانا چاہی تو مسلح جتھوں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں اور بارود سے حملہ کیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسلح عناصر کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کی نفری بھی راولاکوٹ میں موقع پر پہنچ چکی ہے جبکہ مسلح جتھے فورسز پر جدید ترین خودکار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ خود ساختہ دھماکہ خیز مواد (Explosives) بھی استعمال کر رہے ہیں۔
فرض کی راہ میں ریاست کا ایک فرض شناس جوان شہید
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ تصادم کے دوران فرض کی راہ میں ریاست کا ایک فرض شناس جوان شہید اور ایک جوان زخمی ہو گیا جبکہ اطلاعات کے مطابق قانون شکن اور سفاک مسلح جتھے کا ایک کارندہ بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔
جدید ترین ہتھیاروں اور بارود کا استعمال
انہوں نے کہا کہ جدید ترین ہتھیاروں اور بارود کا استعمال کالعدم کمیٹی کے نام نہاد “پرامن بیانیے” کی کھلی نفی ہے، یرغمال بنائی گئی عوام کو شرپسندوں سے نجات دلانے اور امن کی بحالی کے لیے آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اہم شاہراہوں سمیت کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلوچ بازار کے مقام پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور تمام دیگر شاہراہوں کی مکمل کلیئرنس تک آپریشن جاری رہے گا تاکہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنا کر خطے میں مستقل امن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو مکمل یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی انتشاری گروہ کو عوام کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور صحت کو یرغمال بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن آزاد جموں و کشمیر قاضی عنایت علی
اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن آزاد جموں و کشمیر قاضی عنایت علی نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل گرتی ہوئی عوامی حمایت اور رہنماؤں کی لاتعلقی کے بعد نئی تشویشناک حکمتِ عملی پر اتر آئی ہے،انہوں نے کہا کہ عوامی تائید کھونے کے بعد کمیٹی خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ و طالبات کو احتجاج میں آگے لا کر انسانی ڈھال بنانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔
تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری
انہوں نے کہاکہ معصوم بچوں اور طالبات کو احتجاجی سرگرمیوں میں آگے لانا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ان کی جان و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، جبکہ طلباء کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی سیاست کا ایندھن بنانا نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ ہے،انہوں نے کہاکہ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے جبکہ دونوں محکموں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ و طالبات کی حاضری اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور کسی بھی طالب علم کو احتجاج یا دھرنے کا حصہ نہ بننے دینے کے لیے تعلیمی اداروں کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ احتجاج کے دوران یونیفارم میں ملبوس طلبہ و طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہےسیکرٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے مزید کہا کہ ریاستی احکامات کی خلاف ورزی یا طلباء کے احتجاج میں ملوث پائے جانے پر متعلقہ ادارے اور انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
طلبہ و طالبات کی جگہ درسگاہیں ہیں، احتجاجی دھرنے نہیں
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور تعلیمی حکام کا واضح پیغام ہے کہ طلبہ و طالبات کی جگہ درسگاہیں ہیں، احتجاجی دھرنے نہیں، انہوں نے کہاکہآزاد جموں و کشمیر کے بیشتر اضلاع میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں، تمام سرکاری و نجی ادارے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں جبکہ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں میڈیکل کالجز سمیت متعدد تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ کے عوام بھی امن پسند ہیں اور اپنے شہر میں معمولاتِ زندگی کی مکمل بحالی کے خواہاں ہیں، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ راولاکوٹ میں کاروبار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل بحال کرنے کے لیے انتشار پسند عناصر کو مسترد کر کے ریاست سے تعاون کریں۔ا
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں بشمول مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، لیپہ اور کیل میں بورڈ کلاسز کے سمر کیمپس کا 13 جولائی سے باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور سمر کیمپس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت آزاد کشمیر کی نئی نسل کا تعلیم اور مثبت سرگرمیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور عوام کی خواہش ہے کہ بچوں کا مستقبل کتاب، قلم، تحقیق اور علم سے وابستہ ہو، نہ کہ احتجاج اور تصادم سے۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہماری قوم کا مستقبل اور ریاست کے معمار ہیں، ان کے ہاتھوں میں قلم ہی جچتا ہے جو ریاست کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔