سونے کی قیمت میں بڑی تیزی کے بعد آج کیا ہوا؟،بڑی خبر آ گئی

سونے کی قیمت میں بڑی تیزی کے بعد آج کیا ہوا؟،بڑی خبر آ گئی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد جمعہ کو استحکام دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی کے بارے میں اندازہ لگانے میں مدد ملے گی

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ کے بعد اب سرمایہ کاروں کی نظریں آنے والے امریکی معاشی اعدادوشمار اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگلے چند دنوں میں سونے کی قیمت کا رخ بڑی حد تک امریکی روزگار اور مہنگائی کے اعدادوشمار طے کریں گے۔

امریکی سونے کے دسمبر کے فیوچرز میں اس کے برعکس 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 4,514.60 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,468 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم رہا۔ اس سے ایک روز قبل سونے کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ مارکیٹ میں اس وقت فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں ماہ شرح سود بڑھانے یا موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے امکانات تقریباً برابر دکھائی دے رہے ہیں۔

سونا مہنگا ہونے کی صورت کب بنے گی؟

ماہرین کے مطابق اگر امریکی روزگار کے اعدادوشمار کمزور آتے ہیں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے یا مہنگائی میں کمی کے شواہد مزید مضبوط ہوتے ہیں تو فیڈ کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ڈالر اور امریکی بانڈز کی کشش کم ہونے کے باعث سونے کو دوبارہ تیزی مل سکتی ہے۔

عالمی گولڈ مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق بھی سونے میں دوبارہ مضبوط تیزی کے لیے واضح محرک ضروری ہوگا، جس میں شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی، معاشی یا جغرافیائی سیاسی خطرات میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں دوبارہ دلچسپی شامل ہے۔

سونا سستا بھی ہوسکتا ہے؟

دوسری جانب اگر امریکی معیشت کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آتے ہیں، مہنگائی میں کمی رک جاتی ہے یا فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھتے ہیں تو سونے پر دباؤ آسکتا ہے۔ بلند شرح سود عام طور پر ایسے اثاثوں کے لیے منفی ہوتی ہے جو باقاعدہ منافع یا سود ادا نہیں کرتے، اور سونا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

تکنیکی تجزیوں میں بھی مختصر مدت کے لیے سونے کی صورتحال کو محتاط قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق 4,300 ڈالر فی اونس کے قریب سطح اہم سپورٹ بن سکتی ہے، جبکہ 4,500 ڈالر کے آس پاس دوبارہ مضبوطی آنے کی صورت میں تیزی کا رجحان بحال ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں سونے کے خریدار کیا توقع رکھیں؟

پاکستان میں مقامی سونے کی قیمت صرف عالمی نرخ سے نہیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مقامی مارکیٹ کی طلب و رسد سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے عالمی قیمت میں معمولی کمی کے باوجود اگر روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے تو پاکستان میں سونا زیادہ سستا نہ بھی ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر اگلے چند دن سونے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر امریکی روزگار اور مہنگائی کے اعدادوشمار شرح سود میں اضافے کے امکانات کم کرتے ہیں تو سونے میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے، جبکہ مضبوط معاشی اعدادوشمار اور بلند شرح سود کی توقعات قیمت کو دباؤ میں لا سکتی ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں سونے کے لیے اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے، جبکہ واضح سمت امریکی معاشی اعدادوشمار کے بعد سامنے آئے گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles