آتش فشاں کے قریب تنہا رہنے والے شخص نے انخلا سے انکار کیوں کیا؟

آتش فشاں کے قریب تنہا رہنے والے شخص نے انخلا سے انکار کیوں کیا؟

امریکا میں 1980 میں ماؤنٹ سینٹ ہیلنز آتش فشاں کے خوفناک دھماکے سے پہلے حکام نے ہزاروں افراد کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی، مگر ایک 83 سالہ شخص نے اپنا گھر چھوڑنے سے صاف انکار کردیا۔

ہیری آر ٹرومین گزشتہ کئی دہائیوں سے ماؤنٹ سینٹ ہیلنز کے قریب اسپرٹ لیک کے کنارے واقع اپنے لاج میں رہتے تھے۔ وہ اس جگہ سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ بار بار کہتے تھے کہ وہ کسی صورت اپنا گھر نہیں چھوڑیں گے۔

ماہرین اور حکام کی جانب سے آتش فشاں پھٹنے کے خطرے سے مسلسل خبردار کیا گیا، لیکن ہیری ٹرومین نے انخلاء کے احکامات ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا، ’اگر یہ پہاڑ جاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہی جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:صرف ایک راہگیر کی توجہ نے کچرے کے ٹرک میں پھنسے شخص کی جان بچا لی

ان کے اس فیصلے نے انہیں امریکا بھر میں مشہور کردیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آئے جو خطرے کے باوجود اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔

پھر 18 مئی 1980 کو ماؤنٹ سینٹ ہیلنز میں زبردست دھماکا ہوا۔ آتش فشاں سے نکلنے والے ملبے، چٹانوں اور دیگر مواد نے آس پاس کے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہیری ٹرومین، ان کا لاج اور اسپرٹ لیک کے قریب موجود علاقہ بھی اس تباہ کن واقعے میں دب گیا۔ ان کی لاش کبھی نہیں مل سکی۔

آج ہیری ٹرومین کا نام ماؤنٹ سینٹ ہیلنز کی تاریخ کے سب سے مشہور واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا واقعہ اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے انسان کا فیصلہ بعض اوقات زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتا ہے۔

editor

Related Articles