وزیرداخلہ محسن نقوی آج پھر ایران جائیں گے،اہم ملاقاتوں کا امکان

وزیرداخلہ محسن نقوی آج پھر ایران جائیں گے،اہم ملاقاتوں کا امکان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی آج ایک اہم سفارتی دورے پر ایران روانہ ہوں گے جہاں وہ اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔  یہ دورہ خطے کی بدلتی صورتحال، پاک۔ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے  دورے کے دوران وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا امکان ہے  ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، تجارتی روابط، زائرین کو درپیش مسائل اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق کسی بڑی پیش رفت یا مثبت اشارے کا امکان بھی موجود ہے۔

محسن نقوی حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کے متعدد اہم دورے کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے تہران میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقات کی تھی جس میں پاک۔ایران تعلقات، علاقائی امن اور مذاکراتی عمل پر گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:سولر لگوانے والوں کیلئے بری خبر، بجٹ سے قبل سولر پینل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اس کے بعد انہوں نے دوبارہ تہران کا دورہ کیا جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون، سائنسی روابط، اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے امور زیر بحث آئے تھے۔

محسن نقوی کا موجودہ دورہ نہ صرف پاک۔ایران تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعطل ختم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس دورے کے دوران کوئی مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے کردار کو مزید فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور محسن نقوی کا دورہ اسی سفارتی حکمت عملی کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles