آزاد کشمیر کو میدانِ جنگ بنانے کی بیرونی و اندرونی سازشیں ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، حسن ایوب کا دعویٰ

آزاد کشمیر کو میدانِ جنگ بنانے کی بیرونی و اندرونی سازشیں ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، حسن ایوب کا دعویٰ

آزاد جموں کشمیر میں امن و امان کی نازک صورتحال کو سبوتاژ کرنے اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی چند شرپسند دھڑوں کی خفیہ کوششوں کے خلاف ریاستی حکومت اور تمام قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی اداروں نے انتہائی سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

 سینیئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ کار حسن ایوب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر باوثوق سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے سامنے لائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’انتہائی حساس انٹیلیجنس معلومات موصول ہوئی ہیں جن کے تحت بعض مسلح عناصر پُرتشدد کارروائیوں کے ذریعے ریاست میں افراتفری، خون خرابہ اور امن و امان کی صورتحال کو سنگین حد تک خراب کرنے کی ناپاک کوششیں کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی کمیٹی نےدرندگی کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو شہید کیا،عمر چیمہ

اس تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر، آزاد جموں کشمیر کی حکومت اور ریاستی اداروں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ ہر ایسے غیر قانونی، باغیانہ اور پُرتشدد اقدام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہیں جو ریاستی رٹ، عوامی تحفظ اور شہریوں کے روزمرہ کے معمولاتِ زندگی کو چیلنج کرے۔

حسن ایوب کے مطابق اعلیٰ حکام نے سخت ترین تادیبی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بغیر کسی رعایت یا بلاامتیاز تمام ضروری اور مناسب ترین سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

حسن ایوب کے مطابق حکومت نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی گروہ، کالعدم تنظیم یا فردِ واحد کو بدامنی پھیلانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پل پل کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ غیور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پُرامن رہیں اور مٹھی بھر شرپسندوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون کریں۔

آزاد جموں کشمیر میں حالیہ چند ہفتے انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی منقسم رہے ہیں۔ آٹے اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی کے مطالبات کے نام پر شروع ہونے والی عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک، جسے حکومت پُرتشدد سرگرمیوں کے باعث ‘کالعدم’ قرار دے چکی ہے، کے بعض دھڑوں کی جانب سے میرپور اور مظفرآباد جیسے شہروں میں پولیس پر شدید پتھراؤ، کانچ کی بوتلوں کے حملوں اور دیسی ساختہ پیٹرول بموں کے استعمال کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:مظفرآباد میں بڑا آپریشن، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے ’را‘ کے 5 دہشتگرد گرفتار، خودکار ہتھیار، گرینیڈز اور حساس نقشے برآمد

ابھی حال ہی میں مظفرآباد کے علاقے ‘چہلہ’ میں انٹیلیجنس بیورو اور سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے جڑے 5 دہشت گردوں کو 7 خودکار ہتھیاروں، دستی بموں اور حساس تنصیبات کے نقشوں سمیت گرفتار کیا تھا۔

سینیئر صحافی حسن ایوب کی یہ رپورٹ دراصل اسی کڑی کا تسلسل ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرامن عوامی مطالبات کی آڑ لے کر اب کچھ انتہائی خطرناک ‘مسلح عناصر’ ریاست میں گوریلا طرز کی کارروائیاں کر کے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کو عالمی سطح پر بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

یہ الرٹ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب میرپور پولیس پہلے ہی بھاری مقدار میں اسلحہ اور تخریب کاری کا سامان پکڑ کر 4 ملزمان کو دھر چکی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں کے پاس ان مسلح جتھوں کے خلاف اب ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔

Related Articles